حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 537
حقائق الفرقان ۵۳۷ سُورَةُ النَّاسِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج کی رات مجھ پر اس قسم کی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے کبھی نہیں دیکھیں وہ معوذتین ہیں۔ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم جن وانس کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے مگر جب معوذتین نازل ہوئیں تو آپ نے اور طرح اس کی سے۔امر کے متعلق دعا کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ ان الفاظ میں دعا مانگتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوا کرتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ جنوری ۱۹۱۲ء صفحه ۳۹۹ تا ۴۰۲) اس سورہ شریف میں کسی خاص مذہب پر کوئی خصوصیت سے حملہ نہیں۔جیسے اس پاک کتاب کی ابتدائی سورۃ سورہ فاتحہ میں ایسی تعلیم اور دعا ہے جو سماوی اور اخلاقی مذاہب میں کسی مذہب پر زدنہیں۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ۔(الناس : ۲ تا ۴ ) اس سورۂ شریف کی ابتدا میں باری تعالیٰ نے تین نام ظاہر فرمائے ہیں۔اور اس جلسہ ( جلسہ مذاہب عالم ) کے پہلے سوال میں بھی ایسے ہی تین امور کا ذکر کیا ہے کہ جن کا فرداً فرداً تعلق ان تین ناموں سے ہے۔وہ تین انسان کی جسمانی۔اخلاقی اور روحانی حالت کا بیان ہے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ غور فرمائیے۔ابتدا میں انسان ایک جسم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهُتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (النحل : ٧٩) اور بے ریب انسان کا بچہ جب ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو بجز اس کے کہ اس کو جسمانی ضرورتیں سب سے پہلے پیش آتی ہیں۔اور کن علوم کی اس کو ضرورت ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ اگر مولی کریم رب العالمین انسان کی ربوبیت نہ فرماوے اور چوسنے پھر گلے سے اتارنے کا علم نہ بخشے پھر ہضم کی نالیاں اس غذا پر تصرف نہ کریں پھر شریانوں میں اور پھیپھڑوں میں خون مصفی ہو کر بجز و بدن نہ ہو تو انسانی نشونما کا کیا ٹھکانا ہے۔اسی طرح جسمانی غذا میں ماں کی چھاتیوں اور حیوانات کے عمدہ دودھ میسر نہ آویں تو نو زائیدہ انسان کی نسبت کسی کامیابی کی کیا امید ہوسکتی ہے۔اسی طرح روشنی اور ہوائیں عمدہ طور پر اسے نہ پہنچیں لے اس نے تم کو پیدا کیا تمہاری ماؤں کے پیٹ سے، تم کچھ بھی تو نہیں جانتے تھے۔