حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 535
حقائق الفرقان ۵۳۵ سُورَةُ النَّاسِ گھیرے ہوئے ہے۔اور ہر وقت خطرہ ہے کہ اب ڈوبے اب ڈوبے یہ درمیانی حالت نفس لوامہ کی ہے۔اس کو معلوم ہو گیا ہے کہ نفسِ مطمئنہ ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ان لوگوں کی صحبت نے جو نفس مطمع نہ حاصل کر چکے ہیں یا ان کے حالات عجیبہ کے سننے سے اس کو رغبت پیدا ہوئی ہے کہ میں بھی نیک بن جاؤں اور ان لوگوں کے درمیان شامل ہو جاؤں اور بظاہر پہلی نظر اس کو بہت ہی آسان سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں منزل کو آسانی کے ساتھ طے کرلوں گا اور ایسا ہی بن جاؤں گا جیسے کہ وہ لوگ ہیں لیکن تھوڑے ہی دنوں میں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس راہ میں بہت مشکلات ہیں اور بدیوں کا ترک کرنا اور نیک بن جانا آسان بات نہیں ہے ایسے وقت میں جلا اٹھتا ہے ع که عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکلہا لے اور جب چاروں طرف سے اپنے آپکو تکالیف میں دیکھتا ہے۔تب معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ حالت کا حصول کوئی آسان امر نہیں ہے۔ظاہر کہہ دینے کو تو ایک فقرہ ہے اور وہ بھی ایک چھوٹا سا کہ ”میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا لیکن جب اس پر عمل شروع ہوتا ہے۔تب اس کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔جیسا کہ ایک ملازم کسی دفتر کا اس اقرار کے بعد اپنے دفتر میں جاتا ہے۔اور ایک طرف افسر زور دیتے ہیں کہ یہ کام فورا کرو اور دوسری طرف نماز کا وقت آ جاتا ہے۔اس وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے کیا معنی ہیں یا ایک عہدہ دار سرکاری جس کے خرچ بہت ہیں اور تنخواہ تھوڑی ہے وہ جب اس اقرار کے بعد اپنے کام پر جاتا ہے اور آمدنی کو کم پاتا ہے اور خرچ زیادہ ہے اور رشوت کے وسائل کھلے ہیں اور کوئی منع کرنے والا نہیں۔اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔رات کے وقت جب سردی کا موسم ہو اور گرم بستر کے اندر آ دمی لیٹا ہوا ہو اور ہر ایک سامان مہیا ہو اور تہجد کا وقت اور خدا کے یاد کرنے کا وقت آ جائے اور دل نہ چاہے کہ بسترے سے اُٹھے اس وقت انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ میرا دین مقدم ہے یا دنیا مقدم ہے۔غرض سلوک کی راہ میں سب سے مشکل مرحلہ وہی ہے جو نفس لوامہ کو طے کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ لے کہ عشق ابتدا میں آسان ہی لگتا ہے مشکلات بعد میں پڑتی ہیں۔