حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 534 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 534

حقائق الفرقان ۵۳۴ سُورَةُ النَّاسِ شب تاریک و بیم موج و گردا بے چنیں حائل کجا دانند حال ما سبکساران ساحل حافظ شیراز نے اس شعر میں انسان کی ان تین حالتوں کو ظاہر کیا ہے اور اس کی تمثیل کے واسطے دریا اور اس کے دو کناروں کے نظارہ کو لیا ہے کچھ لوگ دریا کے اس کنارے پر ہیں کچھ اس کنارہ پر پہنچ گئے کچھ کشتی میں بیٹھے ہوئے ہنوز اس فکر میں ہیں کہ اس کنارہ تک پہنچ جائیں ایک کنارہ ویران سا ہے، اس میں نہ کوئی شاندار مکان ہے اور نہ پھل پھول ہیں اور اس میں رہنے والے جاہل لوگ ہیں جو دوسرے کنارے کی نعمتوں اور عمدہ اشیاء سے بے خبر ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ دوسرے کنارہ پر کیا کیا آرام کے ذرائع ہیں پس وہ اپنی حالت میں غافل ہیں۔اور ان کو یہ خواہش بھی نہیں کہ دوسری طرف جاویں اور ان لوگوں میں جا کر شامل ہوویں جو دوسرے کنارے پر رہتے ہیں بلکہ وہ اپنے موجودہ حال میں ویسے ہی چپ چاپ بیٹھے ہیں دوسرے کنارے پر وہ لوگ ہیں جو دریا اور اس کی تمام تکالیف اور مصائب کو چھیل کر اپنے منزل مقصود تک پہنچ چکے ہیں اور اب آرام کے ساتھ بیٹھے ہیں ان کو کوئی دکھ اور مصیبت نہیں ہے۔اور نہ ان کے لئے وہ بے امنی اور غفلت کی حالت ہے جو اس کنارے والوں کے لئے ہے اور نہ ان کے واسطے وہ خطرات اور ہر وقت کا خوف ہے جو کشتی والوں کے لاحق حال ہوتا ہے بلکہ وہ ان تمام مشکلات میں سے گزر چکے ہیں اور تمام مصائب کو عبور کر چکے ہیں اور ان کا نفس نفس مطمئنہ ہے اور پہلے لوگ وہ تھے جن کا نفس نفس امارہ تھا پس دریا کے دو کناروں پر دو قسم کے لوگ آباد ہیں ایک کنارے پر وہ ہیں جو نفس امارہ رکھتے ہیں اور دوسرے کنارے پر وہ ہیں جو نفس مطمئنہ رکھتے ہیں۔حافظ شیراز نے ان ہر دو کو اپنے شعر میں سبکسار کہا ہے، کیونکہ ایک کو تو معرفت کی ہی خبر ہی نہیں اور دوسرے کو معرفت حاصل ہو چکی ہے پس وہ دونوں سبکسار ہیں کیونکہ یہ اپنے بوجھ اتار چکا ہے اور اس نے ہنوز بو جھ اٹھایا ہی نہیں۔لیکن مشکلات میں وہ شخص ہے جو درمیان میں ہے کیونکہ اس نے رذیل حالت میں رہنا پسند نہ کیا اور اعلی حالت کی طرف جانا چاہا لیکن راستہ میں مشکلات کا دریا ایسا آ گیا ہے جس میں ہر طرف سے موجیں ہیں اور رات اندھیری ہے اور گرداب لے رات کی تاریکی موجوں کا خوف اور گرداب اس طرح ہماری راہ میں حائل ہیں کہ ہمارے حال کو ساحل پر تیز چلنے والے کہاں سمجھ پائیں گے۔