حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 529
حقائق الفرقان ۵۲۹ سُورَةُ النَّاسِ دیگر باطل ادیان کے ساتھ دین عیسوی کو بھی پست کر دیا تھا۔لیکن آخری زمانہ میں وہی عیسائیت کا فتنہ ایک نئے رنگ میں مخلوق کے سامنے آکر موجود ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو قرآن شریف اور اسلام سے پیچھے ہٹا کر پھر اسی پرانی گمراہی میں ڈال دے۔یہ خناس تعلیم دیتا ہے کہ ہمارا رب یسوع حیح ہے۔چنانچہ عیسائیوں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے رَبُّنَا الْمَسِيحُ اور یسوع کا نام عیسائی کتب میں بادشاہ یعنی ملک بھی ہے۔اور اس کی عبادت بھی کی جاتی ہے گویا کہ وہ الہ یعنی معبود ہے۔ان عقائد کی بیخ کنی کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رَبِّ النَّاسِ اور مَلِكِ النَّاسِ اور إِلهِ النَّاسِ۔وہی ایک خدا ہے جس کی صفات حمیدہ کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے اور جس کی وحدانیت کے بارے میں اس سورۃ سے اوپر ایک سورۃ چھوڑ کر اس طرح بیان کیا گیا ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدُ۔(الاخلاص : ۲ تا ۵ ) کہ وہ اللہ ایک ہے، وہ بے احتیاج ہے، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ اس کا کوئی کنبہ قبیلہ ہے۔اس سورہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ جنگ کا زمانہ نہ ہوگا۔اور اسلام سے لوگوں کو روگردانی کرانے کے واسطے کوئی لڑائی اور ظاہری جنگ کی کارروائی نہ ہوگی۔جیسا کہ پہلے کیا جاتا تھا۔بلکہ صُدُورِ الناس پر بذریعہ وساوس ہو گا اور وہ وسوسہ ڈالنے والے خناس دو قسم کے ہوں گے۔ایک تو پادری لوگ جن کے وساوس موٹے رنگ کے ہر طرح کے کذب اور بہتان کے ساتھ ہیں۔یہ خناس تو ناس میں سے ہے۔لیکن ایک بڑا خناس جو شر میں اس سے زیادہ سخت ہے۔لیکن اپنی شرارت میں کسی قدر مخفی ہے اس واسطے اس کو جن کہا گیا ہے وہ اس زمانہ کے جھوٹے فلسفی اور جزوی سائنس دان ہیں جو حقیقی فلسفہ اور سائنس سے بے خبر ہیں۔اور تعلیم یافتہ گروہ کو خفیہ رنگ میں دہریت کی طرف کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔حالانکہ بظاہر مذہب سے اپنے آپ کو بے تعلق ظاہر کرتے ہیں مگر باطن میں مذہب کے سچے اصول کو اکھاڑنے کے درپے ہیں۔اس سورہ شریف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ کا فتنہ محض دعا کے ذریعہ سے دور ہوگا۔چنانچہ اس کی تائید میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ کفار مسیح موعود کے دم سے مریں گے۔اور حضرت