حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 528 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 528

حقائق الفرقان ۵۲۸ سُورَةُ النَّاسِ اس دعا میں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر اپنے خدا کے ساتھ اس تعلق کو یاد کرتا ہے کہ اے خدا تو ہی میرا پرورش کنندہ ہے اور تو ہی میرا بادشاہ ہے اور تو ہی میرا معبود ہے۔پس میں تیرے ہی حضور میں اپنی یہ درخواست پیش کرتا ہوں کہ نیکی کے حصول کے بعد جو انسان کے دل میں ایسے بڑے خیالات آتے ہیں کہ اس کو نیکی سے پیچھے ہٹانا چاہتے ہیں۔ان خیالات کے شر سے مجھے بچا۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وسوسوں کا پیدا ہونا ضروری ہے پر جب تک انسان ان کے شر سے بچا ر ہے یعنی ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے اور ان پر قائم نہ ہو۔تب تک کوئی حرج نہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میرے دل میں بُرے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔کیا میں ان کے سبب سے گنہگار ہوں۔فرمایا۔فقط بُرے خیال کا اٹھنا اور گزر جانا تم کو گنہگار نہیں کرتا۔یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے جیسا کہ بعض انسان جو شیطان کی طرح ہوتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں بُرے خیالات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس فقط اُن کی بات سننے سے اور رڈ کر دینے سے کوئی گنہ گار نہیں ہوسکتا۔ہاں وہ گنہ گار ہوتا ہے جو ان کی بات کو مان لیتا اور اس پر عمل کر لیتا ہے۔ایک پیشن گوئی سورۃ الناس قرآن شریف کی سب سے آخری سورۃ ہے اور اس کا مضمون آخری زمانہ میں ایک بڑے فتنہ سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم دیتا ہے۔وہ فتنہ خناس کا ہے۔جو کہ لوگوں کے دلوں میں قسم قسم کے وساوس ڈال کر ان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کر ریگا۔کیونکہ یسوع کو خدا بنانے اور اس کی پوجا کرنے کا فتنہ زمانہ نبوی سے پہلے دنیا میں پھیلا ہوا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور نے اس کی خرابیوں کو دنیا پر ظاہر کر کے اس کا زور مٹا دیا تھا۔یہاں تک کہ خود نو را سلام کی چمک سے جھلک پا کر عیسائی قوم میں اس قسم کے ریفارمر پیدا ہو گئے تھے۔جنہوں نے اپنی قوم میں سے یسوع اور مریم کے بت بنانے اور بتوں کی پوجا کرنے کی رسم کو مٹانے کی کوشش کی۔اور اس کوشش میں بہت کچھ کامیابی بھی حاصل کی۔دوسری طرف لاکھوں عیسائی اپنے مذہب کی خرابیوں سے آگاہ ہو کر اور اس سے بیزار ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔غرض اسلام وہ مذہب تھا جس نے