حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 527 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 527

حقائق الفرقان ۵۲۷ سُورَةُ النَّاسِ کو اپنے سامانِ خوردنی ، پوشیدنی کے مہیا کرنے میں مصروف پایا، بڑا ہوا تو محنت مزدوری کی اور خدا نے اس میں برکت ڈالی۔اس لفظ میں اپنے اصل مربی کے بے انتہا احسانات کو یاد کرنے کے بعد اس دعا میں انسان اپنے اس خدا کو یاد کرتا ہے جو اس کا حقیقی بادشاہ ہے۔اُسی کے قبضہ قدرت میں تمام زمین اور آسمان کی گل ہے۔چاہے تو ایک آن میں زلزلہ سے یا بجلی سے یا اور جس طرح چاہے سب کو فنا کر دے یا فنا شدوں کو پھر پیدا کر دے۔تمام انسانوں کے دل بھی اسی کے قابو میں ہیں۔وہ بادشاہ حقیقی ہے۔ہر ایک انسان کے خیالات اس کی نگاہ میں ہیں۔بغیر اس کے اذن کے نہ کوئی کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ مَلِكِ النّاس ہے۔پس وہ جو ہمارا رب ہے اور وہ جو ہماراملك ہے اور سلطان ہے۔وہی اس لائق ہے کہ ہمارا الہ ہو اور معبود ہو، اسی کی عبادت کی جاوے، اسی سے اپنی حاجتیں مانگنی چاہئیں اور اسی کی تعریف کرتے ہوئے سر اس کے آگے جھکا یا جاوے۔پتھر کے بت تو ہماری اپنی مخلوق ہیں اور ہم خود ان کی تربیت کرتے ہیں۔اور ان پر حکومت کرتے ہیں۔جس طرح چاہیں ان کو گھڑ کر بناتے ہیں اور جہاں چاہیں ان کو رکھتے ہیں۔برہمن کے قابو میں آیا تو اس نے زری کے کپڑے پہنا دیئے اور سونے کے زیوروں سے مرضع کر دیا اور محمود کے ہاتھ لگا تو اس نے کاٹ کر جوتیاں رکھنے کے واسطے دہلیز کے باہر گاڑ دیا۔رومن پادری نے اس پر سونے کار گلٹ کیا اور گرجے میں سجایا تو اس کے پراٹسٹنٹ بھائی نے بھی اپنے باپ دادوں کی بے وقوفی پر مضحکہ اڑانے کے واسطے اسے عجائب گھر میں رکھ دیا، سو بتوں کا تو ذکر ہی کیا۔جبکہ خود بت پرست بھی بتوں کو چھوڑتے جاتے ہیں، باقی رہے عناصر اور حیوان اور انسان جن کی بعض بے وقوف لوگ پوجا کرتے سوسب کے سب خود محتاج تھے اور اپنی عمر گزار کر مر گئے۔نہ ان میں سے کسی نے ہماری ربوبیت کی اور نہ کوئی ہمارا مالک اور ملک تھا اور نہ کوئی ہمارا معبود ہو سکتا ہے۔ظاہری بادشاہوں کی حکومت ظاہر حالات پر ہے۔چور چوری پر سے پکڑا گیا تو اس کو سزا مل گئی۔لیکن چور جب چوری کی نیت کرتا ہے اور کسی کی عمدہ شے دیکھ کر دل میں ارادہ کرتا ہے کہ موقع پر اسے اٹھا لے۔اس وقت اس کی نیت اور ارادے کو بجز خدا کے کون دیکھ رہا ہے۔پس حقیقی بادشاہ وہی ہے۔