حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 522
حقائق الفرقان ۵۲۲ سُوْرَةُ الْفَلَقِ يَا حَتى يَا قَيُّومُ يَاذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ - اے میرے ہتھیار میرے مصائب میں اور میرے مونس میری وحشت کے وقت اور اے رحم کرنے والے میری غربت پر اور اے میری گھبراہٹ کے دور کر نیوالے اور اے میری دعا کے قبول کرنے والے اور اے میرے معبود اور میرے باپ دادوں کے معبود ابراہیم و اسحق اور یعقوب کے معبود میری چھوٹی عمر پر رحم فرما اور میرے ضعف رکن پر رحم فرما اور میرے حیلہ کے کم ہونے پر رحم کر۔اے جی اے قیوم۔اے صاحب جلال اور اکرام۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ : جو کچھ خدا نے پیدا کیا۔اس کے شر سے۔یعنی تمام پیدائش الہی میں جو اشیاء انسان کے واسطے مضر اور خراب اور تکلیف دہ ہیں ان سب سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پناہ چاہتا ہے۔بعض کا قول ہے کہ شرّ مَا خَلَق سے مراد شیطان ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی شئے انسان کے واسطے موجب شر اور دکھ اور تکلیف نہیں ہے ایک قول یہ ہے کہ شَرِّ مَا خَلَقَ سے مراد جہنم ہے گویا کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور جہنم سے پناہ چاہتا ہے۔بہر حال اس میں تمام موذی اور دکھ دینے والے اور خدا سے دور رکھنے والی اشیاء سے خدا کے حضور پناہ مانگی گئی ہے۔خواہ وہ شیطان ہو یا جن یا موذی حیوان مثل بچھو، سانپ، شیر وغیرہ۔غاسق:اندھیرا کرنے والا۔ہر ایک چیز جو تاریکی اور ظلمت پیدا کرے۔غاسق رات کو کہتے ہیں اور غسق تاریکی کو کہتے ہیں کیونکہ رات تاریکی پیدا کرتی ہے۔اس واسطے وہ غاسق ہے۔اور غسق بر دکو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ رات بہ نسبت دن کے ٹھنڈی ہوتی ہے۔غاسق ثریا کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ ان کا گرنا عموما وباء اور بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔اور غاسق سورج کو بھی کہتے ہیں جبکہ غروب ہو جاوے اور چاند کو بھی کہتے ہیں جبکہ اس کو گہن لگے۔غاسق سانپ کو بھی کہتے ہیں جبکہ وہ کاٹ کھائے اور ہر ایک نا گہاں آنے والی چیز جو ضرر پہنچائے یا بھیک مانگنے والا جبکہ وہ تنگ کرے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں۔غرض ہر ایک چیز جو انسان کو ظلمت روحانی یا جسمانی میں ڈالے اس کو