حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 516
حقائق الفرقان ۵۱۶ سُوْرَةُ الْفَلَقِ یہ واقعہ صحیح بھی ہو تو اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت پر اس جادو کا کچھ اثر ہو گیا تھا یا آنحضرت نے ان جادو کرنے والے لوگوں کا کچھ پیچھا کیا تھا یا ان کو گرفتار کیا تھا۔ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ ہر زمانہ میں اور ہر ملک میں اس قسم کے آدمی ہوا کرتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہوا کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر جادو کیا کریں۔اور یہ لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو خفیہ سازشوں اور شرارتوں کے ذریعہ سے لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔مثلاً ایک شخص ان کے پاس آیا ہے۔اور وہ ایک دوسرے شخص کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے۔اس واسطے ان کے پاس اپنی یہ خواہش لاتا ہے کہ میرا دشمن مر جائے یا کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو جائے یا مجنون ہو جائے تو وہ اس شخص کو ویسے ہی کوئی تعویذ سا بنا دیں گے یا کوئی تاکہ گر ہیں ڈال کر دیدیں گے اور کہہ دیں گے کہ یہ کسی طرح اپنے دشمن کو کھلاؤ یا اس کے گھر ڈال دو۔یا اور کوئی بات اس قسم کی بتلاویں گے لیکن دراصل یہ صرف ایک ظاہری بات اس شخص کو دھوکا دینے والی ہوگی اور خفیہ طور پر وہ اس کے دشمن کو کسی دوائی کے ذریعہ سے بیمار کرنے یا مجنون کرنے یا ہلاک کرنے پر کمر باندھیں گے۔اور کسی نہ کسی حیلہ سے اس کام کو پورا کر کے اپنے جادو گر ہونے کا لوگوں کو یقین دلائیں گے۔دوسرے قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں۔جو توجہ کے ذریعہ سے اس معاملہ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو دکھ دینے کے درپے رہتے ہیں۔اس قسم کے لوگ بھی ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہے ہیں۔اور آجکل اس گروہ کی ایک بڑی جماعت امریکہ میں موجود ہے۔ان کا مطلب بھی سوائے شرارت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پیشہ کو مخفی رکھتے ہیں۔ورنہ گورنمنٹ ایسے لوگوں کو ہر جگہ گرفتار کر کے سزا دیتی ہے۔ایسے لوگوں کی شرارتوں سے بچنے کے واسطے انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ ہوشیار ر ہے اور ہوشیاری کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ان کی شرارت سے پناہ مانگی جائے۔اس سورہ شریفہ سے پہلے سورۃ اخلاص ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا تذکرہ ہے۔اور اس کے ساتھ ان دوسورتوں میں اس فیضان کا تذکرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر وارد