حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 514 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 514

حقائق الفرقان ۵۱۴ سُوْرَةُ الْفَلَقِ ہیں۔آخر کاران کے اثر سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔پھر ان کے چھوڑے ہوئے لوگ مرد اور عورتیں ان بیماروں کو کہتے ہیں کہ کسی نے تم پر جادو کیا ہے۔کسی نے تم پر سحر کیا ہے۔لہذا اس کا علاج فلاں شخص کے پاس ہے۔آخر مرتا کیا نہ کرتا۔لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ لوگ اپنی مستورات کے ذریعہ سے چونکہ ان کو علم ہوتا ہے کہ وہ زہر کہاں مدفون ہے اور ان کے پاس ایک با قاعدہ فہرست ہوتی ہے۔وہ زہر مدفون نکال کر اُن کو بتاتے ہیں اور اس طرح سے ان بیماروں کا اعتقاد اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔پھر ان لوگوں کو چونکہ ان زہروں کے تریاق بھی یاد ہوتے ہیں۔ان کے استعمال سے بعض اوقات تعویذ کے رنگ میں لکھ کر پلوانے سے یا کسی اور ترکیب سے ان کا استعمال کراتے ہیں اور اُن سے ہزاروں روپیہ حاصل کرتے ہیں۔اس طرح سے بعض کو کامیاب اور بعض کو ہلاک کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جولوگوں کو اپنے فائدے کی غرض سے قسم قسم کی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ شریر لوگ ہیں جو مومنوں کے کاروبار میں اپنی بد تدابیر سے روک اور حرج پیدا کرتے ہیں اور اس طرح سے پھر مومنوں کی کامیابی میں مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔مگر آخر کار وہ نا کام رہ جاتے ہیں۔اور مومنین کا گروہ مظفر ومنصور اور بامراد ہو جاتا ہے۔وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ : کسی کی عزت ، بھلائی، بڑائی ، بہتری ، اکرام اور جاہ وجلال کو دیکھ کر جلنے والے لوگ بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی انسانی ارادوں میں بوجہ اپنے حسد کے روک پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔غرض یہ سورۃ مشتمل ہے ایک جامع دُعا پر۔رسول اکرم نے اس سورۃ کے نزول کے بعد بہت سے تعوذ کی دعائیں ترک کر دی تھیں اور اسی کا ورد کیا کرتے تھے۔حتی کہ بیماری کی حالت میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس سورۃ کو آپ کے دست مبارک پر پڑھ پڑھ کر آپ کے منہ اور بدن پر ملتی تھیں۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے عام طور سے اب ان عجیب پر تاثیر اور ادکوقریباً ترک ہی کر دیا ہے۔انسان جب ایک گناہ کرتا ہے تو اُسے دوسرے کے واسطے بھی تیار رہنا چاہیے کیونکہ ایک گناہ