حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 502
حقائق الفرقان ۵۰۲ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ مضر، نیک اور بد، حق و باطل میں تمیز نہیں کر سکتا۔حدیث میں آیا ہے کہ ضال نصالای ہیں۔دیکھ لو انہوں نے اپنی آسمانی کتاب کو کس طرح اپنے تصرف میں لا کر ترجمہ در ترجمہ، ترجمہ در ترجمہ کیا ہے کہ اب اصل زبان کا پتہ ہی نہیں لگتا۔صاف بات ہے کہ ترجمہ تو خیال ہے مترجم کا۔غرض علوم الہی اور کتب سماوی میں انہوں نے ایسا تصرف کیا اور جہالت کا کام کیا ہے کہ وہ اصل الفاظ اب ملنے ہی محال ہیں۔دوسری طرف حضرت مسیح کی محبت میں اتنا غلو کیا ہے کہ ان کو خدا ہی بنالیا اور اس سورۃ میں اس قوم نصاری کا ذکر ہے اور یہ سورۃ قرآن شریف کے آخر میں ہے اور یہ ضآل کی تفسیر ہے۔اور ضال کا لفظ ام الکتاب کے آخر میں ہے۔پس اس طرح سے ام الکتاب کے آخر کو قرآن کے آخر سے بھی ایک طرح کی مناسبت ہے۔ایک صحابی جو کہ میرا اپنا خیال ہے کہ غالباً وہ عیسائیوں کے پڑوس میں رہتا ہوگا۔وہ اس سورۃ کا ہر نماز میں التزام کیا کرتا تھا بلکہ خود آنحضرت نے بھی اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ آپ صبح کی سنتوں میں غالباً زیادہ تر قُل يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (الاخلاص) ہی پڑھا کرتے تھے۔مغرب کی نماز ( جو کہ جہری نماز ہے ) میں بھی اول رکعت میں قُلْ يَايُّهَا الكَفِرُونَ اور دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (الاخلاص) اکثر پڑھا کرتے تھے۔وتروں میں بھی آنحضرت کا یہی طریق تھا۔چنانچہ پہلی رکعت میں سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (سورة الاغلى) دوسری میں قُلْ يَايُّهَا الْكَفِرُونَ (سورة الكافرون) اور تیسری میں قُلْ هُوَ اللهُ احد (الاخلاص) بہت پڑھا کرتے تھے۔غرض نماز کے اندر اور نماز کے علاوہ اوراد میں اس سورۃ شریفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔قل هُوَ اللهُ اَحَد تو کہہ دے (وہ جو اس کا کہنے والا ہے) اللہ ہے اور وہ واحد ہے ساری ہی صفات کا ملہ سے موصوف اور ساری بدیوں سے منزہ ذات بابرکات ہے۔یہ پاک نام اور اس کے رکھنے کا فخر صرف صرف عربوں ہی کو ہے۔اللہ کا لفظ انہوں نے خالص کر کے صرف صرف خدا کے واسطے خاص رکھا ہے اور ان کے کسی معبود، بت، دیوی دیوتا پر انہوں نے