حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 501
حقائق الفرقان ۵۰۱ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ شرک ہے۔جلی ہو یا خفی۔جب انسان کسی دوسرے انسان کو اپنا حاجت روا یقین کرتا ہے اور اس کی طرف اس طرح جھکتا ہے کہ گویا اس کے بغیر کوئی اس کا کام کر نیوالا نہیں تو وہ توحید کے برخلاف اپنا قدم رکھتا ہے اور ایک شرک میں گرتا ہے۔صاف وہ ہے جو ہر حال میں اپنے خدا پر اپنے یقین کو قائم رکھتا ہے اور اسی پر اس کا بھروسہ ہوتا ہے۔چیست ایماں؟ وحده پند اشتن! کار حق را ، باخدا بگذاشتن که (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۸۹ تا ۳۹۴) اس سورۃ کے فضائل میں سے ایک یہ بھی حدیث صحیح سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ثواب میں قرآن شریف کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔یہ بات بالکل سچی اور بہت ہی سچی ہے۔اس واسطے که قرآن شریف مشتمل ہے اللہ تعالیٰ کی ذات صفات کے مضامین ، دنیوی امور یعنی اخلاقی ، معاشرتی، تمدنی اور پھر بعد الموت یعنی قیامت کے متعلقہ مضامین پر۔اس سورۃ میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کے متعلق ہی ذکر ہے۔اس طرح سے بلحاظ تقسیم مضامین یہ سورۃ قرآن شریف کے سر کے برابر ہے یعنی قرآن کریم کے تین اہم اور ضروری مضامین میں سے ایک مضمون کا ذکر اس سورۃ میں کیا گیا ہے۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سورۃ فاتحہ سے جو کہ قرآن شریف کی کلید اور ام الکتاب ہے شروع ہوئی ہے اور یہ ام الکتاب ضالین پر ختم ہوئی ہے۔ضال کہتے ہیں کسی سے محبت بے جا کرنے کو۔یا جہالت سے کام لینے اور سچے علوم سے نفرت اور لا پرواہی کرنے کو۔صرف دو شخص ہی خال کہلاتے ہیں۔ایک تو وہ جو کسی سے بے جا محبت کرے۔دوسرا وہ جو سچے علوم کے حصول سے مضائقہ کرے۔انسان ہر روز علم کا محتاج ہے۔سچائی انسان کے قلب پر علم کے ذریعہ سے ہی اثر کرتی ہے۔پس جو علم نہیں سیکھتا اس پر جہالت آتی ہے اور دل سیاہ ہو جاتا ہے۔جس سے انسان اچھے اور برے،مفید اور لے ایمان کیا ہے؟ اس کو واحد ولا شریک ماننا اور خدا کے کاموں کو صرف خدا ہی کے لائق سمجھ کر اسی پر چھوڑنا۔