حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 500
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ ہی امام بنانا پسند کرتے تھے۔اس واسطے یہ جھگڑا اسی طرح سے رہا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچائی گئی۔آنحضرت نے اس کو بلایا اور فرمایا کہ اے فلانے تجھے کون سی بات اس سے مانع ہے کہ تو اپنے ساتھیوں کا کہنا مانے اور ہر رکعت نماز کے اندر تو نے سورۂ اخلاص کا پڑھنا کس واسطے اختیار کیا ہے۔اس نے عرض کی۔یا رسول اللہ إِنِّي أحبها مجھے یہی سورۃ پیاری لگتی ہے۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔محبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةُ اس کا پیار کرنا تجھے جنت میں داخل کر دیگا۔فقط اس کی وجہ یہی ہے کہ اس سورۃ شریفہ کے ساتھ محبت کرنا خدا تعالیٰ کی توحید کے ساتھ محبت کرنا ہے اور اپنے آپ کو محتاج جان کر ایک خدا کی طرف اپنی احتیاج کو لے جانا۔جو شخص تمام دنیا کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھکتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو دنیا و مافیہا سے بے احتیاج کر دیتا ہے اور اپنے فضل سے اس کے سارے کام پورے کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی توحید کے عقیدہ میں کمال پیدا کرنا انسان کو تمام مشکلات سے با آسانی نکال کر لے جاتا ہے۔لیکن اس میں بعض ناواقف لوگوں نے دھوکہ کھایا ہے۔اور وحدت وجود کی طرف جھک گئے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ہر ایک چیز جو ہم کو نظر آتی ہے، خدا ہے۔ہر ایک آدمی خدا ہے اور صرف خدا ہی ہے باقی اور کچھ نہیں۔حضرت اقدس مرزا صاحب مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ یہ عقیدہ بالکل غلط ہے۔یہ لوگ خود خدا تعالیٰ کے خالق بنتے ہیں، اور اپنی عقل سے خدا تعالیٰ کی کیفیت پر ایک احاطہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔گویا انہوں نے مانند ایک جراح کے خدا کو نعوذ باللہ چیر پھاڑ کر دیکھ لیا ہے۔اور اس کی تمام حالت پر آگاہ ہو گئے ہیں۔یہ بہت برا عقیدہ ہے۔ہاں وحدت شہود کا عقیدہ درست ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت ایسی بیٹھ جائے کہ کسی دوسرے کی اس کو پرواہ ہی نہ رہے۔اور خدا تعالیٰ کے ساتھ عشق اور محبت کا ایسا درجہ حاصل ہو جائے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے ہر شے اس کو بیچ نظر آئے اور خدا تعالیٰ کی وحدت پر اس کو پورا یقین ہو کہ وہی ایک اس قابل ہے جس کی عبادت کی جاوے۔اور جس کی اطاعت کے واسطے اپنی جان کو قربان کر دیا جائے دراصل تمام بدیوں کی جڑھ