حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 496
حقائق الفرقان ۴۹۶ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ کسی کی طاقت نہیں کہ اس مقابلہ میں کھڑا ہو سکے۔چونکہ تمام شرائع اور عبادات کا اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات اور افعال کی معرفت حاصل ہو اور اس سورہ شریفہ سے اس کی ذات کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اس واسطے اس کو حدیث شریف میں ثلث القرآن یعنی قرآن شریف کا تیسرا حصہ کہا گیا ہے۔بلحاظ ان عجائبات اور فوائد کے جو کہ اس سورہ شریفہ مستنبط ہوتے ہیں اور اُس پر ایمان لانے سے جو راہ سلوک کی طے ہوتی ہے۔ان کے لحاظ سے اس سورۃ شریفہ کے بہت سے نام رکھے گئے ہیں۔عرف بھی اس بات کا شاہد ہے کہ اچھے ناموں کی زیادتی تعداد مسمی کے شرف اور مزید فضیلت پر دلیل ہوا کرتی ہے۔چنانچہ کچھ نام ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔۱۔سورۃ التفرید : کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور فرد ہونے اور تثلیث وغیرہ کی تردید میں ہے۔۲۔سورۃ التجرید : کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور لاثانی ہونے کا اس میں بیان ہے۔۳۔سورۃ التوحید: کیونکہ توحید کا ایسا واضح بیان کسی دوسری کتاب میں نہیں ہے۔۴۔سورۃ الاخلاص اور یہ نام زیادہ تر مشہور ہے۔کیونکہ اس سورۃ میں خالص اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور صفات اضافیہ اور سلبیہ کا ذکر ہے اور سوائے خدا تعالیٰ کے جلال کے بیان کے اور کسی امر کا اس سورہ شریفہ میں ذکر نہیں ہے۔جو کوئی اس کے بیان پر پورا ایمان رکھے۔وہ اللہ کے دین میں مخلص ہے۔۵ - سورة النجاة : کیونکہ اس پر پورا ایمان لانے سے اور اسی یقین پر مرنے سے کہ خدا ایک ہے انسان نجات پاتا ہے اور دوزخ سے بچتا ہے۔برخلاف اس کے عیسائیوں نے نجات اس میں سمجھی ہے کہ خدا تین بنائے جائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کا رڈ کیا ہے کہ نجات اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ کو ایک مانا جاوے۔- سورۃ الولایۃ: کیونکہ یہ سورۃ پورے علم اور عمل اور معرفت کا ذریعہ ہو کر انسان کو درجہ ولایت تک پہنچا دیتی ہے۔