حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 495
حقائق الفرقان ۴۹۵ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ ان سب کی تردید کی ہے کہ خدا وہ ہے جو لم یلد ہے۔کسی کا باپ نہیں اور لَم يُولد ہے۔کسی کا بیٹا نہیں۔اور لَم يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ ہے۔نہ اس کے برابر کوئی روح القدس وغیرہ ہے۔لَمْ يَلِدُ وَ لَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ - ان ہر سہ کلمات کیساتھ تثلیث کو رد کر دیا گیا ہے۔اور اس رد کی دلیل الفاظ احد اور صد میں بیان کی گئی ہے۔کیونکہ جو ایک ہے وہ تین کس طرح ہوسکتا ہے۔اور جو یگانہ ہے اس کے ساتھ دوسرا تیسرا اس کی مانند کیونکر بن سکتا ہے۔اور وہ صمد ہے کسی کا محتاج نہیں۔یسوع تو کھانے پینے کا محتاج تھا۔بھوک سے ایسا لا چار ہو جاتا تھا۔کہ جیسا کہ انجیلوں میں لکھا ہے کہ جس درخت پر سے پھل نہ ملے اس درخت کو بھی دیوانوں کی طرح گالیاں دینے لگ جاتا تھا۔معلومات کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے کہ مجھے علم نہیں دیا گیا۔کہ قیامت کب ہو گی۔باوجود بڑی خواہش اور دعا کے صلیب سے اپنے آپ کو بچانہ سکا۔وہ جو محتاج ہے۔وہ صمد نہیں ہوسکتا۔اور جو صمد نہیں وہ خدا نہیں۔وہ احد ہے۔اس نے اپنی ہستی کو ثابت کرنے کے واسطے اور اپنی قدرت تام دکھانے کے واسطے آخری زمانہ میں اس فتنہ کے بالمقابل ایک سلسلہ قائم کیا ہے۔جو احد اور صمد خدا کی پرستش کو دنیا میں قائم کرتا ہے اور بالخصوص اس مذہب اور فرقہ کو دنیا سے اکھیڑ تا ہے جس کا یہ دعولی ہے کہ خدا باپ ہے اور خدا بیٹا ہے۔اور خدا روح القدس ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے اس سورہ شریف کو قرآن شریف کے آخر میں رکھ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ کا فتنہ یہ ہوگا کہ تین خدا مانے جاویں گے۔ایک خدا کا باپ بنایا جاوے گا ، ایک خدا کا بیٹا بنایا جاوے گا ایک تیسرا بھی ہوگا جوان کی مانند اور مثل ہو گا۔ایک روایت میں ہے۔عیسائیوں ہی نے سوال کیا تھا کہ آپ کے خدا کی کیا صفات ہیں اور ان کے سوال کے جواب میں یہ سورہ نازل ہوئی تھی۔اس فتنہ کو مٹانے والا وہ شخص ہو گا جو خدا کو احد اور صمد مانتا ہوگا اور اس امر کو دنیا کے آگے ثابت کر دیگا کہ خدا صمد ہے اپنے بندوں کی حاجات کو پوری کرتا ہے۔بندے اپنی ضرورتوں کے وقت اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور وہ ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے اور خوارق میں سے آپ کی دعاؤں کی قبولیت ہے۔جس میں مقابلہ کے واسطے تمام جہان کے عیسائیوں آریوں وغیرہ کو بار ہا چیلنج دیا جا چکا ہے۔مگر