حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 493 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 493

حقائق الفرقان ۴۹۳ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ ۱۷۔صمد وہ ہے جو تمام صفات میں اور تمام افعال میں کامل ہو ( سعید بن جبیر ) ۱۸۔صد وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو ( جعفر صادق ) ۱۹۔صمد وہ ہے جو سب سے مستغنی ہو (ابوھریرہ ) ۲۰۔صد وہ ہے کہ خلقت اس کی کیفیت پر مطلع ہونے سے نا امید ہو۔۲۱۔صد وہ ہے جو نہ جنتا ہے اور نہ اس کو کسی نے جنا۔کیونکہ جو جنتا ہے۔لامحالہ اس کا وارث ہوتا ہے۔اور جو خود جنا گیا ہے۔وہ ضرور مرتا ہے گویا صمد کے بعد کلمہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُؤلّند اس کا بیان معنی اور تشریح ہے۔(ابو العالیہ) ۲۲۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔إِنَّهُ الْكَبِيرُ الَّذِي لَيْسَ فَوْقَهُ أَحَدٌ صد وہ کبیر ہے جس کے اوپر اور کوئی نہیں۔تفاسیر میں صمد کے معنے اور تشریح اور بھی بیان ہوئی ہے۔بخوف طوالت اتنے پر اکتفا کیا گیا۔اللهُ الصَّمَدُ : اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے کسی کا محتاج نہیں۔سب اس کے محتاج ہیں۔وہ کسی کا مخلوق نہیں۔سب اس کی مخلوق ہیں۔سب کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے۔وہ سب کی کیفیت جانتا ہے۔کوئی اس کی کیفیت کا عالم نہیں۔وہ سب پر احاطہ کئے ہوئے ہے کسی کا احاطہ اس پر نہیں۔سب کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک ہیں۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ : نہ وہ جنتا ہے اور نہ جنا گیا ہے۔نہ اس کا کوئی ولد ہے اور نہ وہ کسی کا ولد ہے۔اس آیہ شریفہ میں ان تمام مذاہب باطلہ کا بالخصوص رد ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اولاد مانی جاتی ہے۔جیسا کہ اس زمانہ کے عیسائی یسوع مسیح کو ولد اللہ اور ابن اللہ کہتے ہیں۔اس پر ایک سوال ہوا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لم یکن پہلے کیوں رکھا اور لَم يُولد پیچھے کیوں رکھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر مشرکین کا یہ مذہب ہوتا ہے کہ فلاں شخص خدا کا بیٹا تھا یا فلاں عورت خدا کی بیٹی تھی۔مگر یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص خدا کا باپ تھا یا فلاں عورت خدا کی ماں تھی۔گوعیسائیوں کے جاہل فرقہ نے اس شرک میں کمال پیدا کیا ہے۔کیونکہ ان کے درمیان مریم کو خدا کی ماں کہا جاتا