حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 492 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 492

حقائق الفرقان ۴۹۲ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ ا۔صمد وہ عالم ہے جس کو تمام اشیاء کا علم ہو اور وہ بجز ذات الہی کے دوسرا نہیں۔صدر علیم کو کہتے ہیں کیونکہ سید وہی ہو سکتا ہے جو حلم اور کرم کی صفات اپنے اندر رکھتا ہو۔صمد وہ سردار ہے جس کی سرداری اور سیادت انتہائی اعلیٰ درجہ تک ہو۔(ابن مسعود وضحاک) ۴۔صمد خالق الاشیاء ہے۔(اصم ) ۵۔صد وہ ذات ہے۔جو چاہے سو کرے اور حکم کرتا ہے جو چاہتا ہے۔اس کے حکم کو کوئی پیچھے نہیں کر سکتا اور اس کی قضاء کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔(حسین بن فضل ) صمد وہ شخص ہے جس کی طرف لوگ حاجت کے وقت رغبت کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت اس کے پاس اپنی فریاد لے جاتے ہیں۔(سدی) ے۔سید المعظم کو صمد کہتے ہیں۔۸۔صمد غنی کو کہتے ہیں۔۹۔صمد وہ ہے جس کے اوپر اور کوئی نہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عبادة (الانعام : ١٩) ۱۰۔صمد وہ ہے جو نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے پر دوسروں کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔( قتادہ) ۱۱۔حسن بصری کا قول ہے کہ صد وہ ہے جو لغہ یزل ہے اور لا یزالی ہے۔اور اس کے لئے زوال نہیں۔۱۲۔صد وہ ہے جس پر موت نہیں اور نہ اس کا کوئی وارث ہوگا اور آسمان وزمین کی میراث اسی کی ہے۔( ابن ابی کعب ) ۱۳ صد وہ ہے جس پر نیند کا غلبہ نہیں اور نہ اس سے سہو صادر ہوتا ہے۔(یمان وابو مالک) ۱۴۔صمد وہ ہے کہ جن صفات سے وہ متصف ہوتا ہے۔دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا۔(ابن کیسان) ۱۵۔صد وہ ہے جس میں کوئی عیب نہ ہو ( مقابل ابنِ خبان ) ۱۶۔صد وہ ہے جس پر کوئی آفت نہیں پڑ سکتی ( ربیع بن انس )