حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 491
حقائق الفرقان ۴۹۱ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ بمعنی مضمود ہے۔جیسا کہ قبض بمعنے مقبوض آتا ہے۔اس کے معنے ہیں وہ سردار جس کے لوگ محتاج ہیں۔یہ لفظ ان معنوں میں عربی زبان کے لٹریچر میں مستعمل ہے۔چنانچہ دوشعر بطور مثال کے اس جگہ نقل کئے جاتے ہیں۔الا بکر تاعى بِخَيْرِ بَنِي آسَد! بِعَمْرِو بنِ مَسْعُودٍ بِالسَيّدِ الصَّمَد خبردار! صبح کو موت کی خبر دینے والے نے۔بنو اسد کے اچھے آدمیوں سے جس کا نام عمر و بن مسعود اور بڑے سردار کی خلقت محتاج ہے۔ایسا ہی ایک اور شاعر کا قول ہے۔عَلَوتُه بِحُسَامِي ثُمَّ قُلْتُ لَهُ خُذْهَا حُذَيْفَ فَأَنْتَ السَّيِّدُ الصَّمَد میں اپنی تلوار لے کر اس پر چڑھ گیا۔پھر اس کو کہا۔لے اس کو اے حذیفہ! کیونکہ تو بڑا سردار اور حاجت روا ہے۔پس صد اس سردار کو کہتے ہیں۔جس کی طرف وقتِ حاجت قصد کیا جاوے۔چونکہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو سب حاجتوں کے پورا کرنے کے لئے قدرت تام رکھتا ہے۔اس واسطے اس کی صفت میں یہ لفظ استعمال کیا گیا۔اسی لحاظ سے سید سردار کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ تمام قوم اپنے سردار کی محتاج ہوتی ہے۔حضرت ابن عباس کی حدیث سے بھی ان معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ شریف نازل ہوئی تو اصحاب نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صمد کیا ہے تو آپ نے فرمایا۔هُوَ السَّيِّدُ الصَّمَدُ الَّذِي يُصْمَدُ الَيْهِ فِي الْحَوَائِجِ۔وہ سردار ہے جس کی طرف لوگ احتیاج کے وقت قصد کرتے ہیں۔۔پھر لغت عربی میں صدر اس کو کہتے ہیں جس کا جوف نہ ہو۔یعنی اس کے اندر کوئی چیز نہ جا سکے۔نہ اس میں سے کوئی چیز نکلے۔ایسا ہی صمد اس شفاف پتھر کو بھی کہتے ہیں۔جس پر گرد و غبار نہ پڑ سکے۔مفسرین نے مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے لفظ صمد کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے جن میں سے بعض کو اس جگہ نقل کیا جاتا ہے۔