حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 490 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 490

۴۹۰ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ حقائق الفرقان اس کی مثال یہ ہے کہ جب کہیں لا يُقَاوِمُهُ وَاحِدٌ ایک آدمی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تو خیال میں آسکتا ہے کہ دو آدمی مقابلہ کر سکتے ہیں۔لیکن جب کہا جائے کہ لا يُقَاوِمُهُ أَحَدٌ تو اس کے معنے ہیں کہ اس کا مقابلہ کوئی بھی نہیں کر سکتا۔الله : بیه نام خدا کے واسطے عربی زبان میں اسم ذات ہے۔خدا تعالیٰ کا خاص نام ہے۔جوصرف اسی کی ذات پر بولا جاتا ہے۔دوسری کسی زبان میں خدا تعالیٰ کے واسطے کوئی ایسا خاص نام نہیں۔جو صرف اللہ تعالیٰ کے واسطے بولا جاتا ہو اور ایک مفر دلفظ ہو اور کسی دوسرے کے واسطے کبھی استعمال نہ ہوتا ہو مثلاً انگریزی زبان میں اللہ تعالیٰ کے واسطے دو لفظ بولے جاتے ہیں۔ایک گاڈ GOD اور دوسرا لارڈ LORD۔سوظاہر ہے کہ گاڈ GOD کا لفظ انگریزی زبان میں تمام رومی اور یونانی اور ہندی بتوں پر بولا جاتا ہے اور دیوتاؤں کے واسطے بھی استعمال ہوتا ہے اور لارڈ کا لفظ تو ایسا عام ہے کہ ایک معمولی فوج کا افسر بھی لارڈ ہوتا ہے اور ایک صوبے کا حاکم بھی لارڈ ہوتا ہے۔بلکہ ولایت میں پارلیمنٹ کے اعلیٰ حصے کے تمام ممبر لارڈ ہی ہوتے ہیں۔ایسا ہی فارسی زبان میں اللہ تعالیٰ کے واسطے کوئی خاص لفظ نہیں۔جو لفظ زیادہ تر اللہ تعالیٰ کے واسطے بولا جاتا ہے وہ خدا یا خداوند ہے۔خدا ایک مرکب لفظ ہے اور اس کے معنے ہیں۔خود آ۔جو خود بخود ہے۔اور کسی نے اس کو جن نہیں اور فارسی لٹریچر میں یہ الفاظ اوروں کے واسطے بھی استعمال میں آتے ہیں۔ایسا ہی سنسکرت زبان میں جس قدر اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔وہ سب صفاتی نام ہیں۔کوئی اسم ذات نہیں۔یہاں تک اس سورہ شریف کی پہلی آیت کے الفاظ کے معانی کی ہم نے تشریح کر دی ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ : کہہ دے اے محمد اور تمام جہان میں منادی کر دے کہ وہ اللہ ایک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ اس کی صفات میں کوئی اس کی مانند ہے۔نہ یسوع اللہ تھا، نہ رام، نہ کرشن ، نہ بدھ اور نہ کوئی اور۔ہمیشہ سے ایک ہی اللہ ہے۔اور ہمیشہ تک ایک ہی اللہ ہوگا۔ایک ازلی ابدی خدا۔اللهُ الصَّمَدُ : صد وہ ہے جس کے سامنے لوگ اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں۔اس سورۃ میں صمد