حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 486
حقائق الفرقان ۴۸۶ سُوْرَةُ اللَّهَبِ وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلادی نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی اک آواز میں سوتی بستی جگا دی پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق ہے کہ گونج اُٹھے دشت و جبل نام حق سے بعض کا قول ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اعمام کو جمع کیا اور ان کی ضیافت کی۔اور ان کے سامنے کھانا رکھا تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے تو ہر ایک، ایک پوری بکری کا گوشت کھانے والا ہے۔یہ تو نے کیا ہمارے سامنے رکھا ہے۔عرب میں قاعدہ تھا کہ دعوت کے وقت ہر شخص کے سامنے بہت سا کھانا رکھا جاتا تھا۔اور اس میں ایک عزت سمجھی جاتی تھی۔اس کے مطابق انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اعتراض کیا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرامر میں سادگی پسند تھے۔اس واسطے ان کو کہا گیا کہ تم کھانا تو شروع کرو۔جب انہوں نے کھانا شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے اس تھوڑے سے کھانے میں ایسی برکت ڈالی۔کہ وہ سب سیر ہو گئے اور کھانا بہت سا بچ بھی رہا۔جبکہ وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کی طرف دعوت کی۔تب ان میں سے ابولہب بولا کہ اچھا اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو میرے لئے کیا ہوگا۔آنحضرت نے فرمایا۔جو کچھ دوسرے مسلمانوں کے لئے ہو گا وہی تیرے لئے ہوگا۔تب اُس نے کہا، کیا مجھے دوسروں پر فضیلت نہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فضیلت کس بات کی؟ تب اُس نے جواب دیا تَبَّا لِهَذَا الدِّيْنِ يَسْتَوِى فِيْهِ انَا وَغَيْرِ مٹی ، خراب ہو وہ دین جس میں دوسرے میرے برابر ہو جاویں۔ایسا ہی ایک دفعہ چند لوگ باہر سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر ن کر آپ کی زیارت کے واسطے مکہ معظمہ میں آئے تو ابولہب ان کو راستہ میں مل پڑا اور کہنے لگا کہ تم اس کے پاس کیا جاتے ہو وہ تو ساحر ہے۔ان لوگوں نے جواب دیا کہ کچھ ہی ہو۔ہم تو اب ضروران سے مل کر جاویں گے۔جب وہ لوگ باوجود اس کی بڑی کوشش کے آنحضرت کے پاس چلے گئے۔اور اس کی بات نہ مانی تو وہ کہنے لگا۔اِنَّا لَمْ نَزَلُ نُعَالِجُهُ مِنَ الْجُنُونِ فَتَبَّالَّهُ وَ تَعْسًا ہم تو ہمیشہ اس کا