حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 482 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 482

حقائق الفرقان ۴۸۲ سُوْرَةُ اللَّهَبِ وَامْراتُه حَمَّالَةَ الْحَطَبِ : اور اس کی جور و اٹھا نیوالی لکڑیوں کی۔ابولہب کی جورو کا نام ام جمیل تھا۔حرب کی بیٹی تھی اور ابو سفیان کی بہن۔آنحضرت کے ساتھ عداوت اور بغض میں اپنے خاوند کی طرح تھی۔ہمیشہ آپ کو دکھ دینے کے درپے رہتی تھی۔اس آیت شریف میں اس کے خاوند کا نام ابولہب اور اس کا نام حَمَّالَةَ الْعَطب ایک عجیب صفت ہے۔جو اپنے اندر حقیقی اور لطیف معانی رکھتے ہیں۔اس کے خاوند کی عادت تھی کہ لوگوں کو آنحضرت کے برخلاف جنگ و جدال پر آمادہ کرتا رہتا تھا۔لہب سے مراد شعلہ آتشِ جنگ ہے۔ابولہب وہ شخص ہے جو جنگ پر لوگوں کو برانگیختہ کرتا ہے۔حَمَّالَةَ الْحَطب لکڑیوں کے اٹھانے والی وہ ہے جو اس شعلہ کو بھڑ کانے کے واسطے اس میں ایندھن ڈالتی رہتی ہے۔اس عورت کی عادت تھی کہ ہر جگہ جھوٹی باتیں بنا کر آنحضرت کے برخلاف مخالفت کی آگ کو بھڑکاتی رہتی تھی۔سخن چینی کے ذریعہ سے مخالفت کی آگ کا بھر کا نا اس کا پیشہ تھا۔اور اسی آگ میں وہ خود بھی بمعہ اپنے خاوند کے ہلاک ہوئی۔شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا ہے۔میاں دو کس جنگ چون آتش است سخن چین بدبخت بیرام کش است لے کنند ایں و آں خوش و گر با رہ دل ولے اندر میاں کور بخت و فجل میاں دوکس آتش افروختن نہ عقل است خود درمیاں سوختن کے بخاری شریف میں آیا ہے۔قال مجاهد حمالة الحطب تَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ حَمَّالَةَ الْعَطَبِ وه ہے جو چغل خوری کرتی پھرتی ہے۔کہتے ہیں۔اس کی عادت تھی کہ گھر میں جلانے کے واسطے لکڑیاں خود جنگل میں جا کر چلتی تھی اور اکٹھی کر کے خود اٹھا کر لاتی تھی۔اس واسطے بھی اس کا نام حمالة العطب تھا اور آنحضرت کے ساتھ ایسی دشمنی رکھتی تھی کہ جنگل سے کانٹے اور خس و خاشاک اکٹھے کر لے دولوگوں کے درمیان جنگ آگ کی مانند ہوتی ہے اور چغل خور اس آگ کا ایندھن لانے والا ہوتا ہے۔چغل خور لوگ اس کو اور اس کے دل کو دوبارہ خوش کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر وہ بد بخت اور خوار ہوتے ہیں۔دولوگوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑ کا نہ عقلمندی نہیں ہے بلکہ خود کو بھی اس میں جلانے کا باعث ہے۔