حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 482
حقائق الفرقان لد ١٧ سُوْرَةُ اللَّهَبِ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ : اور اس کی جورواٹھا نیوالی لکڑیوں کی ۔ ابولہب کی جورو کا نام ام جمیل تھا۔ حرب کی بیٹی تھی اور ابوسفیان کی بہن ۔ آنحضرت کے ساتھ عداوت اور بغض میں اپنے خاوند کی طرح تھی۔ ہمیشہ آپ کو دکھ دینے کے درپے رہتی تھی ۔ اس آیت شریف میں اس کے خاوند کا نام ابولہب اور اس کا نام حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ایک عجیب صفت ہے۔ جو اپنے اندر حقیقی اور لطیف معانی رکھتے ہیں۔ اس کے خاوند کی عادت تھی کہ لوگوں کو آنحضرت کے برخلاف جنگ و جدال پر آمادہ کرتا رہتا تھا۔ لہب سے مراد شعلہ آتش جنگ ہے۔ ابولہب وہ شخص ہے جو جنگ پر لوگوں کو برانگیختہ کرتا ہے۔ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ لکڑیوں کے اٹھانے والی وہ ہے جو اس شعلہ کو بھڑکانے کے واسطے اس میں ایندھن ڈالتی رہتی ہے۔ اس عورت کی عادت تھی کہ ہر جگہ جھوٹی باتیں بنا کر آنحضرت کے برخلاف مخالفت کی آگ کو بھڑکاتی رہتی تھی ۔ سخن چینی کے ذریعہ سے مخالفت کی آگ کا بھڑ کا نا اس کا پیشہ تھا۔ اور اسی آگ میں وہ خود بھی بمعہ اپنے خاوند کے ہلاک ہوئی ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے کیا خوب فرمایا ہے۔ میاں دوکس جنگ چون آتش است سخن چین بدبخت بیزم کش است کنند ایں و آں خوش و گر با رہ دل ولے اندر میاں کور بخت و نجل میاں دوکس آتش افروختن نه عقل است خود درمیاں سوختن ! بخاری شریف میں آیا ہے۔ قال مجاهد حَمَّالَةَ الحَطَبِ تَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ وه ہے جو چغل خوری کرتی پھرتی ہے۔ کہتے ہیں۔ اس کی عادت تھی کہ گھر میں جلانے کے واسطے لکڑیاں خود جنگل میں جا کر چھنتی تھی اور اکٹھی کر کے خود اٹھا کر لاتی تھی۔ اس واسطے بھی اس کا نام حمالة الحطب تھا اور آنحضرت کے ساتھ ایسی دشمنی رکھتی تھی کہ جنگل سے کانٹے اور خس و خاشاک اکٹھے کر ا دولوگوں کے درمیان جنگ آگ کی مانند ہوتی ہے اور چغل خور اس آگ کا ایندھن لانے والا ہوتا ہے ۔ لانے والا ہوتا ہے۔ چغل خور لوگ اس کو اور اس کے دل کو دوبارہ خوش کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر وہ بد بخت اور خوار ہوتے ہیں ۔ 1 دولوگوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑ کا نہ عقلمندی نہیں ۔ ہے بلکہ خود کو بھی اس میں جلانے کا باعث ہے۔