حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 481 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 481

حقائق الفرقان ۴۸۱ سُوْرَةُ اللَّهَبِ ہے کہ خود اس کا نام بھی ابو لہب تھا جو کہ اس نے تکبر اور غرور کے سبب اپنے لئے پسند کیا ہوا تھا۔اس آیت شریف پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلی اور دوسری آیت تو صیغہ ماضی میں بیان کی گئی ہیں کہ وہ ہلاک ہو گیا اور اس آیت شریف میں صیغہ استقبال استعمال کیا گیا ہے کہ وہ آگ میں داخل ہو گا۔اس میں کیا حکمت ہے۔سو واضح ہو کہ دراصل یہ ایک پیشگوئی ہے۔اور جس وقت سنائی گئی۔اس وقت ابولہب چنگا بھلا تھا اور بڑے زور میں تھا۔اور قوم میں معزز تھا اور آنحضرت ایک بے کسی اور بے بسی کی حالت میں تھے۔لیکن اللہ کے رسول کی تکالیف کو دیکھ کر آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ ان تکالیف کا اب خاتمہ ہو جاوے اور ابولہب ہلاک ہو جاوے۔چونکہ کوئی کام زمین پر نہیں ہوتا جب تک کہ پہلے آسمان پر نہ ہو لئے۔اس واسطے جس امر کا فیصلہ آسمان پر ہو جاوے۔اُس کو ہو گیا ہوا بتایا جاتا ہے۔کیونکہ وہ خدا کا حکم ہے اور یقینی پیشگوئی ہے۔اور حتمی وعدہ ہے۔اس واسطے پہلے سے منادی کی گئی کہ ابولہب ہلاک ہو گیا۔حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ میں عباس بن عبد المطلب کا غلام تھا اور ہمارے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا کیونکہ حضرت عباس مسلمان ہو چکے تھے۔اور ام الفضل بھی اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔اور میں بھی مسلمان ہو گیا تھا لیکن ہم لوگ قوم سے ڈرتے تھے۔اور عام طور پر اپنے اسلام کو ظاہر نہ کرتے تھے کہ زمانہ ابتدائی تھا اور لوگ سخت دکھ دیتے تھے۔جنگ بدر کے موقع پر ابولہب خود نہ گیا تھا۔بلکہ اپنی جگہ اور آدمیوں کو بھیج دیا تھا۔جب خبر آئی کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح ہوئی تو ہم میں قوت پیدا ہوئی اور ہم بہت خوش ہوئے۔میں اور ام الفضل ایک جگہ بیٹھے تھے۔اوپر سے ابولہب آیا اور وہ بھی بیٹھ گیا۔اتنے میں ابوسفیان جنگ سے واپس آیا۔ابولہب نے اس سے جنگ کی کیفیت پوچھی۔ابوسفیان نے منجملہ اور باتوں کے بیان کیا کہ عجب بات یہ ہے کہ ہمارے مقابلہ میں کچھ گورے رنگ کے سوار بھی تھے۔جو آسمان اور زمین کے درمیان میں تھے۔میں نے کہا کہ وہ خدا کے فرشتے تھے۔میرا یہ کہنا تھا کہ ابولہب اٹھا اور مجھے مارنے لگا لیکن ام الفضل نے مجھے چھڑایا اور ابولہب کو مارا اور لعنت ملامت کی اس کے سات دن بعد اس کے ہاتھ پر ایک پھوڑا نکلا اور اسی سے مر گیا۔