حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 480
حقائق الفرقان ۴۸۰ سُوْرَةُ اللَّهَبِ وقت میں یہ پیشگوئی کی گئی کہ خدا تعالیٰ ہم کو کامیاب کرے گا اور یہ اشد دشمن ابولہب جیسا قوم کا سردار نامرادی کے گڑھے میں گر جائے گا۔یہ خدا تعالیٰ کے عجائبات کے نمونے ہیں۔جن کے ذریعہ سے وہ اپنے بندوں کی سچائی دنیا پر روشن کر دیتا ہے۔اور وہ دکھا دیتا ہے کہ بے شک یہ اس کی طرف سے مبعوث ہے ورنہ ایک انسان عاجز کا یہ حوصلہ نہیں کہ ایسی بے کسی اور بے بسی کے وقت میں اتنا بڑا دعوی کرے خدا تعالیٰ ظاہر میں لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا۔پر وہ اپنے عجائب در عجائب کاموں سے پہچانا جاتا ہے جس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب قادیان کے گاؤں میں ایک گوشہ نشین شخص تھے۔اور ایک مہمان بھی کبھی آپ کے پاس نہ آتا تھا اور رات دن تنہائی میں خدا کی عبادت کرتے ہوئے گزرتی تھی۔اس وقت خدا نے یہ الہام کیا کہ تیرے پاس دور دور سے لوگ آئیں گے اور دور دور سے تحائف اور ھدایا بھی تیرے لئے لائیں گے۔اس وقت ممکن ہے کہ خود مہم کو بھی اس پر تعجب ہوا ہو کہ مجھے تو نہ کوئی جانتا ہے اور نہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی جانے اور میں تو اس کو دوست رکھتا ہوں کہ خلوت میں بیٹھا رہوں اور اپنے خدا کی عبادت میں مصروف رہوں۔یہ کیا بات ہے کہ دور دور سے لوگ آئیں گے اور تحفے تحائف بھی لائیں گے مگر قدرت خداوندی اسی طرح سے ہے کہ جو دنیا کو خدا کے واسطے لات مارتا ہے دنیا اسی کی خادم بنائی جاتی ہے اور جو اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔وہ اس کے آگے سے بھاگتی ہے اور اس کو ہمیشہ حسرت اور نا کامی کی حالت میں رکھتی ہے۔سَيَصْلى تارا : جلد داخل ہو گا آگ میں۔زُود باشد که در آید باتش۔عنقریب آگ میں ڈالا جائے گا۔نار سے مراد دو طرح کی آگ ہے۔اول اسی دنیا میں نامرادی اور ناکامی کے ساتھ ہلاکت کی آگ کہ باوجو د رات دن کی جان توڑ کوششوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ دن بدن ترقی پکڑتا گیا اور وہ ترقی ہر وقت اس کے دل کو ایک سوزش اور جلن میں ڈالتی تھی اور آخر اس کی موت بھی طاعون سے ہوئی جو ایک عذاب کی موت ہے اور اس دنیا کے عذاب کے ساتھ آخرت کے عذاب کی جو پیشگوئی کی گئی ہے اس کا سچا ہونا امراول کے پورا ہو جانے سے ثابت ہوتا ہے۔ذَاتَ لَهَبٍ: شعلوں والی۔وہ آگ جس سے شعلے نکلتے ہیں۔اس جگہ لہب کے لفظ میں وہ خوبی