حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 479 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 479

حقائق الفرقان ۴۷۹ سُوْرَةُ اللَّهَبِ محمد کو جا کر کہہ دینا کہ میں اسی وحی کا کافر ہوں جو تم پر اتری ہے۔اور شرارت میں ہمیشہ مبالغہ کیا کرتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بددعا کی تھی کہ اللَّهُمَّ سَلْطَ عَلَيْهِ كَلْبًا مِنْ كلابك چنانچہ ایک جنگل میں شیر نے اسے پھاڑ کھایا۔الغرض ابولہب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سخت دشمن تھا ہمیشہ ایذا دہی کے درپے رہتا تھا۔اور آپ کے حق میں ہلاکت کی بددعا کیا کرتا تھا۔وہی بددعا بالآخر الٹ کر اس کے اپنے سر پر جا پڑی اور وہ دین ودنیا میں خائب و خاسر ہو کر ہلاک ہو گیا۔ما اغلى عنه : نہ کفایت کیا اس سے۔اس کے کسی کام نہ آیا۔بیچ دفع نہ کرداز اؤ۔" مَالُهُ وَ مَا كَسَب: اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا۔مَا كَسَب۔جو کچھ اس کی کمائی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد اس کی اولاد ہے۔ما اغلى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبْ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔خدا کے عذاب سے نہ اس کو اپنا مال چھڑا سکا اور نہ اس کی اولاد اس کے کسی کام آئی۔اس میں ایک پیشگوئی بھی ہے کہ باوجود مالدار ہونے کے اور صاحب اولا د ہونے کے اور قوم کے درمیان معزز ہونے کے اس کی تمام کوششیں جو کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کر رہا ہے۔سب کی سب اکارت جائیں گی۔وہ اپنی کسی کوشش میں کامیاب نہ ہو گا۔بلکہ ایک نامرادی کی موت مرے گا۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بڑا بھاری نشان ہے۔کیونکہ یہ آیات ایسے وقت نازل ہوئی تھیں۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنوز مکہ شریف میں رہتے تھے۔اور صرف چند آدمی آپ کے ساتھ تھے۔اور بظاہر کوئی رعب آپ کا لوگوں پر نہ تھا۔بلکہ سب لوگ ہنسی ٹھٹھا کرتے اور ایذاء دیتے اور تمام قوم آپ کی دشمن تھی اور اپنے کیا بیگانے سب بگڑے ہوئے تھے۔کوئی شخص مسلمانوں میں داخل ہونے کی جرات بمشکل تمام کر سکتا تھا۔جو مسلمان ہو جاتا۔وہ بھی اپنے آپ کو خفیہ رکھتا۔غرض ایسے وقت میں جبکہ دنیا دارنظر بہ ظاہر حالات کر کے یہ خیال کرتے تھے کہ یہ سلسلہ ایسا کمزور ہے کہ آج ٹوٹا یا کل۔ایسے ا اے اللہ ! تو اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مسلط کر دے۔۲؎ اس کا کوئی دفاع نہ کیا۔