حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 478 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 478

۴۷۸ سُوْرَةُ اللَّهَبِ حقائق الفرقان پر یہ سورہ نازل ہوئی اور وہی ہلاکت کی بددعا جو ابولہب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی تھی۔الٹ کر خود اسی پر پڑی۔یہ ایک مباہلہ تھا جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کا فرنے کیا تھا اور اس قسم کے مباہلوں کی مثالیں خود اس زمانہ میں بھی قائم ہو چکی ہیں۔جن میں سے ایک مولوی غلام دستگیر قصوری کا مباہلہ ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے ساتھ مباہلہ کیا تھا اور ایک کتاب میں لکھا تھا کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو وہ ہلاک ہو جائیں اور اگر ان کو جھوٹا کہنے میں میں جھوٹا ہوں تو میں ہلاک ہو جاؤں۔چنانچہ اس کے بعد بہت جلد وہ ہلاک ہو گیا۔ایسا ہی علی گڑھ کا مولوی اسمعیل مسیح موعود کے مقابلہ میں مباہلہ کر کے ہلاک ہوا اور ایسا ہی جموں والا چراغ دین عیسائیوں کا دوست اور خود مسیح ہونے کا مدعی وہ بھی مباہلہ کے بعد واصل جہنم ہوا۔پھر آ جکل ڈاکٹر عبدالحکیم نے اس مباہلہ میں پیش دستی کر کے حضرت مسیح موعود کے حق میں تین سال کے اندر مر جانے کی پیشگوئی کی ہے۔دنیا عنقریب دیکھ لے گی کہ اس کا یہ کلمہ کس کو جھوٹا اور کس کو سچا ثابت کر کے دکھا دیتا ہے۔مگر جن بدقسمتوں نے پہلے اس قدر واقعات سے فائدہ نہیں اٹھا یا وہ اب کیا نفع حاصل کر سکتے ہیں؟ وتب: اور ہلاک ہو گیا وہ۔تبت يدا أبي لَهَبٍ وتَبَ ( اللهب : ۲) ہلاک ہوں ہر دو ہاتھ ابی لہب کے اور ہلاک ہوا وہ۔ہر دو ہاتھ سے مراد اس کا سارا وجود ہے یا اس کا دین اور دنیا۔یا اس کی اولاد ہے کیونکہ اس کو نہ دنیا میں کوئی آرام پہنچا اور نہ دین کے معاملہ میں اس کو کوئی کامیابی حاصل ہوئی۔ہر طرف سے وہ خائب و خاسر ہی رہا۔ابن وقاب نے لکھا ہے کہ تبت کے معنے صفِرت ہیں۔یعنی خالی رہے۔ہاتھوں کی طرف اشارہ اس واسطے بھی ہے کہ اس کا خیال تھا کہ میرا ہاتھ غالب رہے گا۔اور میں رسول کے مقابلہ میں فتح مند رہوں گا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کو عذاب کے ساتھ جلد موت دی۔بعض نے لکھا ہے کہ تبت سے اشارہ اس کے بیٹے عتبہ کی طرف ہے۔اگر بیٹے کی طرف اشارہ ہو تو بیٹے کی ہلاکت بھی باپ کی ہلاکت ہے۔اور واقعات یہ ہیں کہ دونوں ہلاک ہوئے تھے۔اس کے بیٹے عتبہ کا ذکر ہے کہ وہ تجارت کے واسطے شام کو گیا ہوا تھا۔وہاں سے اہل قافلہ کے ذریعہ سے آنحضرت گو کہلا بھیجا کہ تم