حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 477
حقائق الفرقان ۴۷۷ سُوْرَةُ اللَّهَبِ کیا کہ یہ متکبر آدمی ہے۔لوگوں کے سامنے اس کو سمجھانا مفید نہیں پڑتا۔شاید کہ اس کو علیحدگی میں سمجھایا جاوے تو ہدایت کی راہ پر آجاوے اور جہنم میں گرنے سے بچ رہے۔اس واسطے آپ رات کے وقت اس کے مکان پر گئے اور ایسا کرنے میں آپ نے حضرت نوح علیہ السلام کی سنت کو ادا کیا۔کیونکہ حضرت نوح نے کہا تھا اِنِّي دَعَوْتَ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ( نوح: 1) میں نے رات کے وقت بھی انہیں تبلیغ کی اور حق کی طرف بلایا اور دن کو بھی بلایا جب آنحضرت اس کے مکان پر پہنچے تو کہنے لگا کہ شاید آپ نے دن کے وقت جو کچھ کہا تھا اس کے متعلق عذر کرنے کے لئے اس وقت آئے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے ادب سے بیٹھ رہے اور اسے اسلام کی طرف بہت تبلیغ کی۔پر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے زمانہ بعثت میں تبلیغ عام طور پر نہ کرتے تھے۔یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ۲۱۵) اپنے قریبی قبائل کو آنے والے عذاب سے ڈراؤ۔تب آپ کو ہ صفا پر چڑھ گئے اور پکارا۔اے آلِ غالب۔تب قبیلہ غالب کے لوگ جمع ہو گئے۔اور ابولہب نے کہا۔لے آل غالب آ گئے۔اب بتا تیرے پاس کیا ہے تب آپ نے پکارا یا آل لوئی۔اس وقت قبیلہ لوئی جمع ہوا۔پھر ابولہب نے وہی کلمات کہے۔تب آپ نے آلِ مرہ کو پکارا۔اسی طرح پھر آل کلاب اور آل قصی کو پکارا۔ہر دفعہ ابولہب ایسا ہی کہتا رہا۔جب سب جمع ہو گئے۔تب آپ نے فرما یلان الله أَمَرَنِي أَنْ أَنْذِرَ عَشِيْرَتي الْأَقْرَبِينَ وَأَنْتُمُ الْأَقْرَبُونَ اعْلَمُوا أَنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا حَظًّا وَلَا مِنَ الْآخِرَةِ نَصِيبًا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَأَشْهَدُ بِهَالَكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ - اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریبی قبائل کو ڈراؤں۔سو تم میرے قریبی ہو۔تم یاد رکھو کہ میں نہ دنیا میں تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہوں اور نہ آخرت سے تمہیں کچھ حصہ دلا سکتا ہوں جب تک کہ تم اس بات پر ایمان نہ لاؤ کہ معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔اگر تم میرا یہ کہنا مان لوتو اللہ تعالیٰ کے حضور اس معاملہ میں میں تمہارے حق میں شہادت دوں گا۔ابولہب نے یہ کلمہ سن کر کہا۔تَبَّالَكَ أَلِهَذَا دعوتنا تجھ پر ہلاکت ہو۔کیا اسی واسطے تو نے ہم کو پکارا تھا۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم