حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 476 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 476

حقائق الفرقان سُوْرَةُ اللَّهَبِ چاہتے۔ان کو آگے جا کر راستہ ہی میں ملتا۔اور بڑے تکلف اور تکبر کے ساتھ باتیں کرتا ہوا ان کو سمجھا تا کہ دیکھو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجنون ہے۔ہم اس کے چا ہیں۔وہ ہمارا بیٹا ہی ہے۔ہم اس کا علاج کر رہے ہیں۔تم اس کے پاس مت جاؤ۔بعض کو کہتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے۔ایسے جادوزدہ شخص کے پاس جا کر تم کیا لو گے۔بہتر ہے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ۔چنانچہ اس طرح کی باتیں بنا بنا کر لوگوں کو واپس کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔بعض بد قسمت اس کا کہنا مان لیتے اور واپس چلے جاتے۔اور جو لوگ زیادہ ہوشیار ہوتے۔وہ تو کہتے کہ ہم تو اس کو ملنے کے واسطے آئے ہیں۔کچھ ہی ہو۔اب تو ملاقات کر کے ہی واپس جائیں گے۔ایسے لوگوں پر خفا ہوتا اور پھر جھنجھلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا۔اور بعض کے کانوں میں روئی ڈال دیتا کہ اچھا تم ضرور جانا چاہتے ہو تو جاؤ مگر اس کی باتیں نہ سننا کیونکہ اس کی باتوں میں ایک جادو ہے وہ تم پر اثر کر جائے گا تو تم بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ گے۔چنانچہ ایک صحابی کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اس کے ساتھ ایک آدمی بھی لگایا کہ جلد اس کو واپس لے آنا۔زیادہ دیر تک وہاں بیٹھنے نہ دینا۔ورنہ ( نعوذ باللہ ) خراب ہو جائے گا۔مگر وہ خدا کا بندہ ہو شیار آدمی تھا۔اس نے تھوڑی دور جا کر اس آدمی کو واپس کر دیا کہ تم جاؤ۔میں خودا اپنا راستہ تلاش کرلوں گا۔اور روئی کو کانوں میں سے نکال کر پھینک دیا۔ربیعہ بن عباد سے روایت ہے وہ کہتا ہے۔میں نے ایک دفعہ۔۔۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے زمانہ رسالت میں دیکھا کہ آپ سوق ذی الحجاز میں کہ رہے تھے۔اے لوگو! تم لا إلهَ إِلَّا الله کہو توتم اپنی مراد کو پہنچ جاؤ گے۔بہت سے لوگ آپ کے پاس جمع تھے اور آپ کا وعظ سن رہے تھے۔آپ کے پیچھے ایک شخص سرخ چہرے والا اور احول لوگوں کو بہکاتا تھا کہ یہ شخص صابی ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔جدھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو بہکا تا کہ ہی خص تم کولات اور عزمی کی عبادت سے منع کرتا ہے۔اس کے پیچھے مت جاؤ اور اس کی پیروی نہ کرو۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے۔تو انہوں نے کہا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تبلیغ کی تو اس نے سختی سے انکار کیا۔تب آپ نے خیال