حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 475

حقائق الفرقان ۴۷۵ سُوْرَةُ اللَّهَبِ اتری ہے۔اس سورۃ میں بسم اللہ کے بعد پانچ آیتیں اور بین " کلمات اور اکیا سی حروف ہیں۔تشریح و معانی الفاظ : ثبت۔ہلاک باد۔نابود بود نابود ہو جائیں۔یہ لفظ تباب سے مشتق ہے۔تباب کے معنے ہیں ہلاکت۔عرب میں ایک محاورہ ہے شابةٌ آم تابة اسی معنی میں یہ لفظ قرآن شریف میں اور جگہ بھی آیا ہے۔قال الله تعالى وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابِ ( المومن : ۳۸) فرعون کی تدابیر کا نتیجہ ان کے حق میں سوائے ہلاکت کے اور کچھ نہیں۔کا فر بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔اس کی تمام تدابیر ضائع جاتی ہیں۔تبت کے دوسرے معنے نقصان اور گھاٹے ہیں۔فتح البیان میں تبت کے معنے خَسِرَتْ وَ خابَتْ وَ ضَلَّتْ لکھا ہے یعنی گھاٹے میں پڑا اور نامراد ہوا اور گمراہ ہوا۔قرآن شریف میں کفار کے حق میں ہے۔وَمَازَادُوهُمْ غَيْرَ تَثْبِيبِ (هود:۱۰۲) ان کو کچھ زیادہ نہ ملا۔یعنی کچھ فائدہ نہیں۔صرف نقصان ہی ہوا۔غرض تبت کے دو معنے ہیں۔ہلاکت اور نقصان اور گھاٹا اور مال ہر دو معنوں کا ایک ہی ہے۔تباہی ، ناکامی اور نامرادی۔يدا: ہر دو دست۔دونوں ہاتھ۔یذ کا تثنیہ ہے۔ید کے معنے ایک ہاتھ۔یہا کے معنے دو ہاتھ۔آیدی کے معنے بہت ہاتھ۔تبت يدا کے معنے دونوں ہاتھ ہلاک ہوں۔آبی لھب۔کفار مکہ کے اکابر میں سے ایک شخص تھا۔رشتہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چھا تھا۔ابی لہب اس کی کنیت تھی اور اس کا اصل نام عبد العڑی تھا۔عرب میں ہر شخص کو بہ سبب عزت کے کنیت سے بلاتے تھے۔اور اصل نام کی بجائے اکثر لوگ کنیت کے ساتھ زیادہ معروف ہوتے تھے۔لھب کے معنے ہیں شعلہ اور آب کے معنے باپ۔آپی لھب کے معنے ہوئے شعلہ کا باپ۔بعض کا قول ہے کہ اس نے تکبر کے طور پر اپنے لئے یہ کنیت پسند کی تھی۔ابو لہب اس واسطے بھی اسے کہتے تھے کہ اس کا چہرہ بہت سرخ تھا۔ی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہایت عداوت رکھتا تھا۔اور عداوت کی وجہ سوائے اس کے نہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو حید کا وعظ فرماتے تھے۔اور یہ بت پرست تھا۔رات دن حضرت کو تکلیف دینے کے درپے رہتا تھا۔جو لوگ باہر سے آتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنا