حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 473

حقائق الفرقان ۴۷۳ سُوْرَةُ النَّصْرِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین قسم کے لوگ ہوئے تھے۔ایک وہ جو سابق اول من المہاجرین تھے۔اور دوسرے وہ جو فتح کے بعد ملے ہیں۔اور تیسرے اس وقت جو رایت النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَزْوَاجًا کے مصداق تھے۔اسی طرح جو لوگ عظمت و جبروت الہی کو پہلے نہیں دیکھ سکتے۔آخر ان کو داخل ہونا پڑتا ہے۔اور اپنی بودی طبیعت سے اپنے سے زبر دست کے سامنے مامور من اللہ کو ماننا پڑتا ہے۔اور بلکہ آخر يُغطوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَبِوَ هُمْ صَاغِرُونَ - (التوبہ:۲۹) کا مصداق ہوکر رہنا پڑتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ ، صفحه ۵) قرآن شریف کے ابتدا کو آخر سے ایک نسبت ہے۔پہلے مُفْلِحُونَ فرمایا ہے تو اِذَا جَاءَ نَصُرُ اللهِ وَالْفَتْحُ میں اس کی تفسیر کر دی اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کی تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ میں اور ضَالِينَ كارو قُلْ هُوَ الله احد میں کر دیا ہے۔غرض عجیب ترتیب سے ان تینوں گروہوں کا ذکر کیا ہے۔بدر جلد ۸ نمبر ۵۲ مورخه ۲۱/اکتوبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰) لے وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے اور وہ بے قدر ذلیل ہوں۔