حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 471
حقائق الفرقان ۴۷۱ سُوْرَةُ النَّصْرِ محمد ربك - اللہ کی تسبیح کرو، اس کی ستائش اور حمد کرو اور اس سے حفاظت طلب کرو۔استغفار یا حفاظت الہی طلب کرنا ایک عظیم الشان سر ہے۔انسان کی عقل تمام ذرات عالم کی محیط نہیں ہوسکتی۔اگر وہ موجودہ ضروریات کو سمجھ بھی لے تو آئندہ کے لئے کوئی فتوی نہیں دے سکتی۔اس وقت ہم کپڑے پہنے کھڑے ہیں۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت اور فضل کے نیچے نہ ہوں اور محرقہ ہو جاوے تو یہ کپڑے جو اس وقت آرام دہ اور خوش آئند معلوم ہوتے ہیں ناگوار خاطر ہو کر موذی اور مخالف طبع ہو جاویں اور وبالِ جان سمجھ کر ان کو اتار دیا جاوے۔پس انسان کے علم کی تو یہ حد اور غایت ہے۔ایک وقت ایک چیز کو ضروری سمجھتا ہے اور دوسرے وقت اُسے غیر ضروری قرار دیتا ہے۔اگر اسے یہ علم ہو کہ سال کے بعد اسے کیا ضرورت ہوگی؟ مرنے کے بعد کیا ضرورتیں پیش آئیں گی ؟ تو البتہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت کچھ انتظام کر لے۔لیکن جبکہ قدم قدم پر اپنی لاعلمی کے باعث ٹھوکریں کھاتا ہے۔پھر حفاظت الہی کی ضرورت نہ سمجھنا کیسی نادانی اور حماقت ہے۔یہ صرف علم ہی تک بات محدود نہیں رہتی۔دوسرا مرحلہ تصرفات عالم کا ہے۔وہ اس کو مطلق نہیں۔ایک ذرہ پر اسے کوئی تصرف واختیار نہیں۔غرض ایک بے علمی اور بے بسی تو ساتھ تھی ہی۔پھر بد عملیاں ظلمت کا موجب ہو جاتی ہیں۔انسان جب اولاً گناہ کرتا ہے تو ابتدا میں دل پر نین ہوتا ہے پھر وہ امر بڑھ جاتا ہے۔اور رین کہلاتا ہے اس کے بعد مہر لگ جاتی ہے۔یہ چھا پا مضبوط ہو جاتا ہے۔قفل لگ جاتا ہے۔پھر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ بدی سے پیار اور نیکی سے نفرت کرتا ہے خیر کی تحریک ہی قلب سے اٹھ جاتی ہے اس کا ظہور ایسا ہوتا ہے کہ خیر و برکت والی جانوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔یا تو ان کے حضور آنے ہی کا موقع نہیں ملتا۔یا موقع تو ملتا ہے لیکن انتفاع کی توفیق نہیں پاتا۔رفتہ رفتہ اللہ سے بعد ملائکہ سے دوری اور پھر وہ لوگ جن کا تعلق ملائکہ سے ہوتا ہے ان سے بعد ہو کر کٹ جاتا ہے۔اس لئے ہر ایک عقلمند کا فرض ہے کہ وہ تو بہ کرے اور غور کرے۔ہم نے بہت سے مریض ایسے دیکھے ہیں جن کو میٹھا تلخ معلوم دیتا ہے اور تلخ چیزیں لذیذ معلوم ہوتی ہیں۔کسی نے مجھ سے مُللذ نسخہ مانگا۔میں نے اسے مصبر ، کچلہ ، شہد ملا کر دیا۔اس نے کہا کہ