حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 467
حقائق الفرقان ۴۶۷ سُورَةُ النَّصْرِ دین اللہ میں داخل ہونا تسلیم نہ کیا گیا۔قرآن شریف میں اور جگہ دین کے معنوں کی وضاحت کی گئی ہے۔فرمایا ہے۔اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ الله الْإِسْلامُ ( آل عمران : ۲۰) اللہ تعالیٰ کے حضور میں مقبول دین تو صرف اسلام ہی ہے۔اور فرمایا وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ (آل عمران :۸۶) اور جو شخص اسلام کے سوائے اور کوئی دین چاہے گا۔وہ ہرگز قبول نہ ہو گا۔تعجب ہے کہ باوجود ایسی صریح آیات کے ہوتے اس زمانہ میں ڈاکٹر عبد الحکیم خاں جیسوں کی عقل ایسی ماری گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور قرآن شریف پر عمل کرنا کچھ ضروری نہیں اور نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ کی پابندی کی کوئی حاجت نہیں اور اسلام میں داخل ہونا ایک بے فائدہ امر ہے۔صرف اللہ کو مان لو کہ وہ ہے اور اچھے اچھے کام کرو جو تمہاری نگاہ میں اچھے ہوں (خواہ نیوگ ہی کیوں نہ ہو ) تو بس نجات پا جاؤ گے۔لفظ دین کے واسطے اور الفاظ بھی قرآن شریف میں آئے ہیں۔جیسا کہ ایمان۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَأَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَبَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ (الذاریات: ۳۷۳۶) ہم نے وقتِ عذاب مومنوں کو وہاں سے نکال دیا اور اس میں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر ملا۔اور صراط جیسا کہ فرمایا ہے۔صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ (الشوری: ۵۴) راہ اللہ کی وہ اللہ کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے۔سب اُسی کا ہے اور ایسا ہی دین کے واسطے اور بھی نام ہیں۔جیسا کہ كَلِمَةُ اللہ اور نُور اور ھدی اور عُروہ اور حبل اور صِبْغَةُ الله اور فطرة الله فضائل سورۃ النصر : حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر جو سورۃ یہ تمام و کمال اور پوری اتری وہ یہی سورۃ النصر ہے۔اس کے بعد کوئی پوری سورۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوئی۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ سورۃ ربع القرآن ہے۔یعنی قرآن شریف کی چوتھائی کے برابر ہے۔یہ فضیلت بلحاظ اس شاندار پیشگوئی کے معلوم ہوتی ہے جس پر وہ مشتمل ہے اور بلحاظ لے ے اُس اللہ کی راہ کی طرف کہ اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔