حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 455 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 455

حقائق الفرقان ۴۵۵ سُورَةُ النَّصْرِ عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسانہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنے یہی ہیں کہ وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق فوت نہ ہو اور انسانی فطرت اپنے تئیں کمزور دیکھ کر طبعاً خدا سے طاقت طلب کرتی ہے۔جیسا کہ بچہ ماں سے دودھ طلب کرتا ہے۔پس جیسا کہ خدا نے ابتدا سے انسان کو زبان آنکھ دل کان وغیرہ عطا کئے ہیں۔ایسا ہی استغفار کی خواہش بھی ابتدا سے ہی عطا کی ہے اور اس کو محسوس کرایا ہے کہ وہ اپنے وجود کے ساتھ خدا سے مدد پانے کا محتاج ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالمُؤْمِنت (محمد: ۲۰) یعنی خدا سے درخواست کر کہ تیری فطرت کو بشریت کی کمزوری سے محفوظ رکھے اور اپنی طرف سے فطرت کو ایسی قوت دے کہ وہ کمزوری ظاہر نہ ہونے پاوے اور ایسا ہی ان مردوں اور ان عورتوں کے لئے جو تیرے پر ایمان لاتے ہیں بطور شفاعت کے دعا کرتارہ کہ تاجو فطرتی کمزوری سے ان سے خطائیں ہوتی ہیں۔ان کی سزا سے وہ محفوظ رہیں اور آئندہ زندگی ان کی گناہوں سے بھی محفوظ ہو جاوے۔یہ آیت معصومیت اور شفاعت کے اعلیٰ درجہ کی فلاسفی پر مشتمل ہے۔اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان اعلیٰ درجہ کے مقام عصمت پر اور مرتبہ شفاعت پر تب ہی پہنچ سکتا ہے کہ جب اپنی کمزوری کے روکنے کے لئے اور نیز دوسروں کو گناہ کی زہر سے نجات دینے کے لئے ہر دم اور ہر آن دعا مانگتا ر ہے اور تضرعات سے خدا تعالیٰ کی طاقت اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس طاقت سے دوسروں کو بھی حصہ ملے جو بوسیلہ ایمان اس سے پیوند پیدا کرتے ہیں۔معصوم انسان کو خدا سے طاقت طلب کرنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ انسانی فطرت اپنی ذات میں تو کوئی کمال نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے کمال پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی قوت نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے قوت پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی کامل روشنی نہیں رکھتی بلکہ خدا سے اس پر روشنی اترتی ہے۔اس میں اصل راز یہ ہے کہ کامل فطرت کو صرف ایک کشش دی جاتی ہے تا کہ وہ طاقت بالا کو اپنی