حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 454
حقائق الفرقان ۴۵۴ سُورَةُ النَّصْرِ حقیقی معنے یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے۔فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور روشنی سے روشنی دے۔کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا۔بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے۔ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔یعنی جو کچھ بنایا ہے۔اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا۔اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے۔ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے۔کیونکہ خدا کی خالقیت نے انسان پر یہ احسان کیا کہ اس کو خدا کی صورت پر بنایا۔پس اسی طرح خدا کی قیومیت نے تقاضا کیا کہ وہ اس پاک نفس انسانی کو جو خدا کے دونوں ہاتھوں سے بنایا گیا ہے۔پلید اور خراب نہ ہونے دے۔لہذا انسان کو تعلیم دی گئی کہ وہ استغفار کے ذریعہ سے قوت طلب کرے۔پس اگر دنیا میں گناہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔تب بھی استغفار ہوتا کیونکہ دراصل استغفار اس لئے ہے کہ جو خدا کی خالقیت نے بشریت کی عمارت بنائی ہے۔وہ عمارت مسمار نہ ہو اور قائم رہے اور بغیر خدا کے سہارے کے کسی چیز کا قائم رہنا ممکن نہیں۔پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے۔اَللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی خدا ہی ہے جو قابل پرستش ہے۔کیونکہ وہی زندہ کرنے والا ہے اور اسی کے سہارے سے انسان زندہ رہ سکتا ہے یعنی انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو۔تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے سو وہ خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے۔اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔اسی کی طرف اشارہ سورہ فاتحہ کی اس آیت میں ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ یعنی ہم تیری ہی