حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 450 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 450

حقائق الفرقان آیا۔زلزلہ آیا۔۴۵۰ سُوْرَةُ النَّصْرِ جاء کے معنے ہیں۔آیا۔آمد۔اس لفظ میں قابل توجہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فتح اور نصرت تیرے پاس آئی جسے خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کی تائید کے واسطے عین ضرورت کے وقت میں بھیجا۔نصر الله : اللہ تعالیٰ کی نصرت۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد۔وَالْفَتْحُ: وہ خاص فتح جس کے تم منتظر تھے۔اور جس کے متعلق پہلے سے پیشگوئی کی جا چکی تھی۔اور تورات و انجیل میں جس کا ذکر کیا گیا تھا۔یعنی فتح مکہ۔وہی مکہ جس میں سے جان بچا کر بھا گنا پڑا تھا۔اور خفیہ طور پر رات کے وقت ہجرت کرنی پڑی تھی۔اسی کی فتح کے دن آتے ہیں۔اور مظفر و منصور ہو کر اس میں داخل ہونے کے ایام قریب ہیں۔ورآیت : اور تو نے دیکھ لیا۔تو نے جان لیا۔تو نے معلوم کر لیا۔الناس : لوگوں کو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی رسول دنیا کی طرف مبعوث ہوتا ہے تو اس کا ساتھ دینے والے لوگ اور اس کی پیروی کرنے والے تین قسم کے ہوتے ہیں۔اول اور سب سے اعلیٰ طبقہ کے لوگ وہ ہوتے ہیں۔جو کسی معجزه ، نشان ، کرامت یا خارق عادت کے دیکھنے کے محتاج نہیں ہوتے۔وہ اس نبی کی شکل دیکھتے ہی اور اس کا دعوی سنتے ہی اُمَنَّا وَ صَدَّقْنَا کہ اٹھتے ہیں۔ان کو نبی کے ساتھ ایک ازلی مناسبت حاصل ہوتی ہے اور وہ فورا اس پر ایمان لاتے ہیں جیسا کہ حضرت صدیق اکبر ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔آپ سفر میں تجارت کے واسطے باہر گئے ہوئے تھے۔اور عرب کو واپس آتے ہوئے ہنوز شہر سے دور تھے۔راستہ میں ان کو ایک آدمی ملا۔اس سے پوچھا کہ شہر کی کوئی تازہ خبر سناؤ۔اس نے کہا۔تازہ خبر یہ ہے کہ محمد نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ اگر محمد نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو بے شک سچا دعویٰ کیا ہے۔اسی جگہ ایمان لائے اور صدیق اکبر کہلائے رضی اللہ عنہ۔یہ اعلیٰ طبقہ کے آدمیوں کا نمونہ ہے۔اس سے کم درجہ کے لوگ وہ ہیں۔جو کچھ تھوڑا بہت دلائل سننے اور