حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 441 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 441

حقائق الفرقان ۴۴۱ سُورَة الْكَافِرُونَ جاسکتا ہے۔اس کی نسبت یہ کلمہ بھی کسی عقل کی رُو سے کہنا جائز ہوسکتا ہے کہ اس نے دعوی نبوت اور مسیحیت کا از خود کر دیا ہے۔اور خدا پر افتراء باندھا ہے۔کیا مفتری علی اللہ متقی اور ولی اللہ ہوسکتا ہے۔ہاں کفار کے ساتھ ایک اور صورت صلح کی ہوسکتی ہے۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کفار کے ساتھ کی تھی۔جس کی شرط یہ تھی کہ کفار مسلمانوں پر حملہ نہ کریں اور نہ ان لوگوں کی امداد کریں جو مسلمانوں پر ناجائز حملہ کرتے رہتے ہیں۔اور ایسے ہی مسلمان نہ ان کو کسی قسم کی تکلیف دیں گے۔اور نہ ان کے تکلیف دہندوں کی کوئی حمایت کرے گا بلکہ ہر طرح سے ان کے بچاؤ کی کوشش کریں گے۔اسی رنگ کی صلح حضرت مسیح موعود نے بھی مخالف عیسائیوں ، آریوں ، ہندوؤں اور دیگر اقوام کے سامنے پیش کی تھی کہ چند سالوں تک جو معین کئے جاویں۔یہ قومیں مسلمانوں کے خلاف کوئی کتاب نئی یا پرانی شائع نہ کریں اور ایسا ہی مسلمان اس عرصہ میں کوئی کتاب ان مذاہب کی تردید میں نہ لکھیں گے ہاں ہر ایک مذہب کے عالم کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ صرف اپنے ہی مذہب کی خوبیاں بیان کرتے رہیں۔کوئی کتاب لکھے جس میں یہ دکھائے کہ اس مذہب پر چلنے سے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن کسی دوسرے مذہب کا کچھ ذکر نہ کریں۔مذہبی جنگوں کے خاتمہ کے واسطے اور آئے دن کے جھگڑوں اور تنازعوں کے مٹانے کے لئے یہ نہایت ہی احسن طریقہ تھا مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس طرف توجہ نہ کی۔غرض اس قسم کی صلح تو انبیاء کی سنت کے مطابق ہے۔لیکن یہ بات کہ مداہنہ کے طور پر اور منافقت سے کچھ تم ہمارے عقائد کو مان لو اور کچھ ہم تمہارے عقائد کو مان لیں۔ایسا طریقہ خدا کے سچے رسول کبھی اختیار نہیں کر سکتے۔نسخ: بعض لوگ اس سورہ شریف کے یہ معنے سمجھ کر اس کو منسوخ سمجھتے ہیں کہ کفار کو ان کے دین پر رہنے کی اس میں اجازت دی گئی ہے کہ وہ بیشک اپنے دین پر رہیں اور مسلمان ان کے ساتھ کوئی تعرض نہیں رکھیں گے۔لیکن جب جہاد کے متعلق آیات نازل ہوئیں۔تو پھر یہ سورۃ منسوخ ہوگئی۔یہ بات بالکل غلط ہے۔قرآن شریف کی کوئی سورۃ اور سورۃ کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہے سب کا سب ہمیشہ کے واسطے بنی نوع کے عمل کے لئے عمل کرنے اور فائدہ اٹھانے کے واسطے ہے۔قیامت