حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 440

حقائق الفرقان ۴۴۰ سُورَة الْكَافِرُونَ ہمارے قبائل میں سے سب سے زیادہ خوبصورت عورت جو آپ کو پسند ہو آپ لے لیں اور اگر آپ کو ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات پسند نہ ہو تو پھر تیسری بات یہ ہے کہ آپ ہمارے ساتھ اس طرح سے صلح کر لیں کہ ایک سال آپ ہمارے بتوں کی پرستش کریں تو پھر دوسرے سال ہم آپ کے اللہ کی عبادت کریں گے۔اس طرح برابر تقسیم ہوتی رہے گی اور کسی کو شکایت کا موقع نہ رہے گا۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ لوگ کیسے جاہل ہیں کہ نہیں سمجھتے کہ میں کس خوبیوں سے بھرے ہوئے اسلام کی طرف ان کو بلاتا ہوں اور کس قادر تو انا حی و قیوم معبود حقیقی کے قرب کے حصول کا ذریعہ ان کے آگے پیش کرتا ہوں اور کس دائمی خوشی اور ابدی راحت کا تحفہ ان کے واسطے تیار کرتا ہوں جس کے عوض یہ مجھے نا پائیدار مال اور ایک عورت کے چند روزہ حسن کا لالچ دیتے ہیں۔اور پتھروں کے آگے سر جھکانے کو کہتے ہیں۔جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑے اور بنائے ہیں۔چونکہ آپ کو ان لوگوں کی خیر خواہی کے واسطے بڑا درد تھا۔جس کو خدائے علیم نے ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - (الشعراء :۴) کیا تو اس غم میں کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔آپ نے کفار کے ایسے جاہلانہ سوال پر دردمند ہو کر یہی بہتر سمجھا کہ اس کے جواب کے واسطے اپنے معبود حقیقی کی طرف توجہ کریں اور یہی طریقہ ہمیشہ سے انبیاء کا چلا آیا ہے۔چنانچہ آپ کی توجہ کے بعد خدا تعالیٰ سے کفار کے جواب میں یہ سورہ شریف نازل ہوئی جس سے کفار کی تمام امیدیں ٹوٹ گئیں۔اس قسم کے صلح کے شرائط عموما کفار انبیاء کے سامنے بہ سبب اپنی جہالت کے پیش کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی خدا کے مرسل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کومخالفوں نے یہ بات کہی کہ ان کے انتقاء اور علم اور عمل میں ہم کو کوئی شک نہیں۔بے شک یہ ولی اللہ ہیں اور ہم ان کو ماننے کے واسطے تیار ہیں۔صرف مسیح ہونے کا دعوی نہ کریں اور بس۔تعجب ہے کہ ان لوگوں کی عقل پر کیسے پتھر پڑ گئے۔کیا وہ شخص جو متقی اور عالم اور ولی اللہ مانا