حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 439
حقائق الفرقان ۴۳۹ سُورَة الْكَافِرُونَ پہنچائی جاتی ہے چنانچہ اس کی نظیر خود اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہمارے واسطے پیدا کر دی ہے۔خدا کا مسیح کس قوت اور زور کے ساتھ دنیا کی تمام قوموں کے درمیان توحید کا وعظ کر رہا ہے۔نہ ایک دفعہ کہہ کر وہ خاموش ہوجاتا ہے۔بلکہ بار بار ہر ایک ذریعہ سے خدا کا پیغام دنیا کو پہنچا تا ہے۔نہ صرف ایک زبان میں بلکہ اردو، عربی ، فارسی اور انگریزی، پشتو وغیرہ زبانوں میں اس کی تبلیغ کا آوازہ دنیا کے چار کونوں تک پہنچ رہا ہے۔رسالوں میں ، اخباروں میں، اشتہاروں میں ، زبانی تقریروں میں ، قلمی تحریروں میں غرض کوئی ذریعہ تبلیغ کا اٹھا نہیں رکھا گیا۔اور آج دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کے لوگ اس مسیح کے نام سے اور اس کے دعوے سے ناواقف ہوں۔خدا کے برگزیدوں کی ہمیشہ سے یہ ہی سنت ہے کہ وہ کھول کھول کر اور پھاڑ پھاڑ کر خدا کا حکم دنیا جہان کو پہنچا دیتے ہیں اور اس کے حکم کے پہنچانے میں نہ وہ کسی دشمن کی دشمنی کی پرواہ کرتے اور نہ کسی مخالف کی مخالفت سے کبھی ڈرتے ہیں۔نادان ان کے مقابلہ میں اٹھتے اور جوش دکھاتے ہیں۔پھر تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر نا امید ہو کر ناکام مرجاتے ہیں۔پر وہ خدا کے بندے ہر روز اپنا قدم آگے بڑھاتے ہیں اور خدا کی تائید سے کامیاب ہو کر رہتے ہیں۔شانِ نزول یه سوره شریف بقول ابن مسعود وحسن و عکرمہ کی ہے۔اس زمانہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنوز مکہ معظمہ میں قیام رکھتے تھے اس سورہ کی پیشین گوئی سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورہ ایسے وقت میں نازل ہوئی تھی۔جب کہ کفار اپنے زور پر تھے۔اور اپنے بتوں کی حمایت اور ان کی پرستش میں بڑے یقین کے ساتھ مصروف تھے اور گمان کرتے تھے کہ اسلامی سلسلہ ایک چند روزہ بات ہے جو جلدی ہم لوگ اپنی قوت و زور کے ساتھ نیست و نابود کر دیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعولی نبوت کی اصل کیفیت نہ سمجھ کر ان میں سے چند آدمی جیسا کہ ابو جہل، عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث وغیرہ نے آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہمارے بتوں کی مذمت کرنا اور ان کو برائی سے یاد کرنا چھوڑ دو۔اور اس کے عوض میں ہم آپ کو اس قدر مال دیں گے کہ مکہ میں آپ سے زیادہ بڑا کوئی مالدار نہ ہو وے۔یا اگر آپ چاہیں تو