حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 437
حقائق الفرقان ۴۳۷ سُورَة الْكَافِرُونَ بیزاری اس جگہ حال اور استقبال میں دو بار کر کے جو بیان کی گئی ہے۔اس میں اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے معصوم ہیں کہ ان کی حالت میں کبھی اور انحراف اور بدی کی طرف تبدیلی واقع ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معبود زمانہ گزشتہ میں بھی ایک خدا ہی تھا اور اب بھی وہی ہے اور آئندہ بھی وہی ایک ہوگا۔برخلاف مشرکین کی یہ حالت ہے۔لَكُمْ دِينُكُمْ۔تمہارے لئے پھل اور نتیجہ ہے اس کا جو کچھ کہ تم عبادت کرتے ہو۔شرک ایک قبیح رجس ہے۔پس پہلے کفار کے حصے کا ذکر کیا گیا کہ کفار کو غیر اللہ کی پرستش کا حصہ مل رہے گا۔توحید سے انحراف اور بتوں کی پرستش کا انجام تم پر ظاہر ہوگا۔اور جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے۔ان کے رجس پر اور جس بڑھتا ہے۔اور وہ حالت کفر میں ہی مرجاتے ہیں۔ولی دین۔اور میرے لئے میرا دین۔اس سورہ شریف کا اوّل اس کے آخر سے مطابق ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں واحد خدا کی پرستش کرتا ہوں اور تمہارے معبودوں کی پرستش نہ کی ہے۔نہ کرتا ہوں اور نہ کروں گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توحید اور اخلاص کا دین مجھے حاصل ہوا اور صواب کا طریقہ مجھے ہی ملا اور ان لوگوں کا راستہ جن پر خدا تعالیٰ کا انعام ہوا مجھے ہی عطا ہوا۔اور ایسا ہی تمہیں تمہارا حساب بھگتنا پڑے گا۔اور مجھے اپنا۔پس میری نصرت کی جائے گی اور میری عزت کی جائے گی اور میں تمہارے شہروں کو فتح کروں گا اور اس کے ساتھ دوسرے شہروں کو بھی فتح کروں گا۔اور لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوں گے اور تم میری مخالفت میں اپنے مال بھی خرچ کرو گے اور پھر بھی مغلوب رہو گے پس یہ دونوں دین بلحاظ اصول اور فروع اور نتیجہ کے یکساں نہیں رہیں گے۔پس اس سورہ شریف میں کفر سے پوری بیزاری ظاہر کی گئی ہے۔قُل۔کہہ دے۔بول۔یہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔اور آپ کی طفیل تمام مسلمانوں کو ہے کہ ایسے کفار کو جو کفر پر ایسے پکے ہیں کہ نہ پہلے کبھی انہوں نے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔اور نہ آئندہ ان سے