حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 436 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 436

حقائق الفرقان ۴۳۶ سُورَة الْكَافِرُونَ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ان کو کہہ دو کہ اے جاہلو۔کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوائے کسی اور کی عبادت کروں۔اور تجھ پر اور تجھ سے پہلوں پر یہ وحی نازل ہو چکی ہے کہ اگر تو خدا کے ساتھ شرک کرے گا تو تیری تمام محنت بیکا ر ہو جائے گی۔اور تو نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔بلکہ ایک اللہ ہی معبود ہے۔اسی کی عبادت کر اور قدر دانوں میں سے بن۔مسلم اور بیہقی نے اپنی کتاب میں حضرت ابی ہریرہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فجر کی دورکعتوں (سنتوں) میں قُلْ يَأَيُّهَا الكَفِرُونَ اور سورۃ اخلاص پڑھی تھی۔عام سنت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ اپنی کتاب حکیم قرآن کریم میں جہاں کہیں کفار کا ذکر کرتا ہے تو الَّذِينَ كَفَرُوا کر کے فرماتا ہے لیکن اس کی بجائے اس سورہ شریف میں الَّذِينَ كَفَرُوا نہیں فرمایا بلکہ یوں فرمایا کہ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ۔اے کا فرو! اس کی وجہ یہ ہے کہ کلمہ كَفَرُوا صیغہ ماضی میں ہے۔اور انقطاع پر دلالت کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے يَأَيُّهَا الكَفِرُونَ۔اے کا فرو! فرما کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔بلکہ صاف تصریح کردی ہے کہ یہ مخاطب ایسے کا فر ہیں کہ صفت کفران کے لازم حال ہو گئی ہے۔ایسی حالت سے خدا تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔لا اعْبُدُ۔میں تمہارے بتوں کی نہ اب پوجا کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا۔اس جگہ بتوں کی عبادت کی نفی حرف لا کے ساتھ کی گئی ہے۔کیونکہ حرف لا کی نفی حال اور استقبال ہر دو پرمشتمل ہے۔نہ اب اور نہ آئندہ۔مَا تَعْبُدُونَ۔جو کچھ تم عبادت کرتے ہو۔ما اسم مہم ہے۔اور مشرکوں کے معبودوں کے ابہام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ مشرک اپنی خواہش بے جا کے سبب خود اپنے اندر ایک شک وشبہ میں پڑا ہوا ہے۔اور ہر روز نیابت اپنے لئے تراشتا ہے۔اور اس کا عقیدہ مکڑی کے جالے کی طرح بودہ اور کمزور ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ طیب اور مبارک کے متعلق غیر اللہ کی عبادت سے