حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 431
حقائق الفرقان ۴۳۱ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے کل قوی اور خواہشوں کو قربان کر ڈالو اور رضاء الہی میں لا دو تو پھر نتیجہ یہ ہوگا۔اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ تیرے دشمن ابتر ہوں گے۔انسان کی خوشحالی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ خود اس کو راحتیں اور نصر تیں ملیں اور اس کے دشمن تباہ اور ہلاک ہوں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز اور اپنی قربانیوں میں دکھا دیا کہ وہ ہمارا ہے۔ہم نے اپنی نصرتوں اور تائیدوں سے بتا دیا کہ ہم اس کے ہیں۔اور اس کے دشمنوں کا نام و نشان تک مٹا دیا۔آج ابو جہل کو کون جانتا ہے۔ماں باپ نے تو اس کا نام ابوالحکم رکھا تھا مگر آخر ابو جہل ٹھہرا وہ سَيِّدُ الوَادِی کہلاتا مگر بدتر مخلوق ٹھہرا۔وہ بلال جس کو ذلیل کرتے ناک میں نکیل ڈالتے اس نے اللہ تعالیٰ کو مانا اسی کے سامنے ان کو ہلاک کر کے دکھا دیا۔غرض خدا کے ہو جاؤ وہ تمہارا ہو جائے گا مَنْ كَانَ لِلهِ كَانَ اللهُ لَہ۔میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں ہزار اعتراض مرزا صاحب پر کرتے ہیں مگر وہ وہی اعتراض ہیں جو پہلے برگزیدوں پر ہوئے۔انجام بتا دیا کہ راست باز کامیاب ہوتا ہے۔اور اس کے دشمن تباہ ہوتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ورنہ نامراد مرتا ہے۔پس ایسے بنو کہ موت آوے خواہ وہ کسی وقت آوے۔مگر تم کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار پاوے۔یاد رکھو کہ مرکز اور مرتے ہوئے بھی اللہ کے ہونے والے نہیں مرتے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمالِ صالحہ کی توفیق دے جو اپنی اصلاح نہیں کرتا اور اپنا مطالعہ نہیں کرتا۔وہ پتھر ہے۔دنیا کے ایچ بیچ کام نہیں آتے۔کام آنیوالی چیز نیکی اور اعمال صالحہ ہیں۔خدا سب کو تو فیق عطا کرے۔آمین الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۳ تا ۵) کوثر کے معنے خیر کثیر کے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں تنہا تھے۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا کچھ خیر کثیر دیا اور دیتا جارہا ہے۔سکھوں کا مذہب صرف اتنا ہی ہے کہ اللہ کو ایک مان لو اور دعا کر لو۔کوئی زیادہ قیدیں اس مذہب میں نہیں مگر باوجود اس آسانی کے پھر بھی اس مذہب میں کوئی ترقی نہیں۔بخلاف اس کے کہ اس میں بہت ساری پابندئیں ہیں۔نماز کی ، روزہ کی ، حج کی، زکوۃ کی اور دیگر عبادات کی، معاملات کی۔مگر باوجود ان تمام پابندیوں کے اسلام میں روز بروز ترقی ہے۔یہ کیسا