حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 430
حقائق الفرقان ۴۳۰ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ بوڑھاپے ( میں ) آئندہ اولاد کے ہونے کی کیا توقع اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں ساری امید میں اور تمام ارادے قربان کر دیئے۔ایک طرف حکم ہوا اور معا بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔بیٹا! ابی آری فی الْمَنَامِ أَنِّي أذبحك ( الصفت: ۱۰۳) تو وہ بلا چون و چرا یونہی بولا کہ اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّابِرِينَ - الصفت: ۱۰۳) ابا جلدی کرو۔ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے۔اس کی تعبیر ہو سکتی ہے۔مگر نہیں۔کہا۔پھر کر ہی لیجئے۔غرض باپ بیٹے نے ایسی فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزت، کوئی آرام کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں مگر دیکھو کہ اس میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اس کے بیٹے کو کیا جزا دی۔اولاد میں ہزاروں بادشاہ اور انبیاء۔۔۔۔۔پیدا کئے۔وہ زمانہ عطا کیا جس کی انتہا نہیں۔خلفاء ہوں تو وہ بھی ملت ابراہیمی میں۔سارے نواب اور خلفاء الہی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہو نیوالے ہیں۔پس اگر قربانی کرتے ہو تو ابراہیمی قربانی کرو۔زبان سے اِنِّي وَ جَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَر السَّمواتِ وَالْأَرْضَ - (الانعام: ۸۰) کہتے ہو تو روح بھی اس کے ساتھ متفق ہو۔اِنَّ صَلونِي وَ نُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - (الانعام: ۱۶۴) کہتے ہو تو کر کے بھی دکھلاؤ۔غرض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کی فرماں برداری اور تعمیل حکم کے لئے جو اسلام کا سچا مفہوم اور منشا ہے ( کوشش کرو ) مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں وسوسے اور دنیا کی ایچا نیچی ہوتی ہے۔لے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تجھ کو ذبح کر رہا ہوں۔۲۔اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا گیا ہے وہ تو کر گزر۔قریب ہی تو مجھ کو پائے گا انشاء اللہ نیکیوں پر جمے رہنے والے اور بدیوں سے بچنے والوں میں سے۔تو کو عید الاضحی۔مرتب ۴ میں نے تو اپنا منہ اسی کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے۔۵ میری نماز اور عبادت اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا ہے۔