حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 34

حقائق الفرقان ۳۴ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّل کہ روزی رزق کی کیا سبیل ہو۔تو اس کے لئے ربوبیت کو یاد دلا کر اسی کو اپنا کارساز سمجھنے کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَنَّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَى اللهُ هَمَّ دُنْيَاهُ وَمَنْ تَشَعَبَ بِهِ الْهُمُومُ اَحوَالَ الدُّنْيَا لَمْ يُبَالِ اللهَ أَى وَادِيَتِهَا هَلَكَ - جس شخص نے اپنے تمام فکروں کو اکٹھا کر کے ایک آخرت ہی کی فکر بناڈالا تو کارساز ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تفکرات کا۔لیکن جس کو پریشان کر رکھا ہے اس کے دنیا کے احوال نے جو اسی میں مستغرق ہے تو خدا کو بھی پروا نہیں کہ دنیا کے کسی خاردار جنگل جھاڑیوں میں وہ ہلاک ہو جاوے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ / مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۳٬۲۹۲) ۱۳ ، ۱۴ - إِنَّ لَدَيْنَا انْكَالًا وَجَحِيمًا - وَطَعَامًا ذَا غَضَةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا - ترجمہ۔ہمارے پاس تکمیل ہے بیٹریاں اور دوزخ ہے۔اور گلا گھونٹنے والا کھانا ہے اور ٹمیں دینے والا عذاب ہے۔تفسیر۔طَعَامًا ذَا غَضَة۔وہ طعام ہے۔جو گلو گیر حلق میں پھنے والا ہو۔غصة۔یہ عربی لفظ اللہ تعالیٰ کے غضب پر قرآن شریف میں کہیں نہیں بولا گیا۔یہ ہماری زبان کا نقص ہے جو غضب الہی کے معنے خدا کے غصہ کے کرتے ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ / مارچ ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۳) ١٦، ١٧ - إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - فَعَطى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْ نَهُ أَخَذَ ا وَبِيلًا - ترجمہ۔ہم نے تمہاری طرف ویسا ہی رسول بھیجا ہے۔جو تم پر نگران ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو بڑی سختی سے پکڑ لیا۔كما اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ۔اس آیت شریفہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو