حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 425
حقائق الفرقان ۴۲۵ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ میں نے تجربہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور طرز انسان کے پاس ہو تو باطل مذاہب خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی وہ ٹھہر نہیں سکتا۔پھر استحکام و حفاظت مذہب کے لئے دیکھو۔جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں۔یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔اس کی حفاظت کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ٹھہرایا ہے۔مگر قرآن کریم کی تعلیم کے لئے فرمایا۔اقالة لحفظونَ۔(الحجر:۱۰) یہ کیا کوثر ہے!!! اللہ تعالیٰ خود اس دین کی نصرت اور تائید اور حفاظت فرما تا اور اپنے مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے۔جو اپنے کمالات اور تعلقات الہیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ان کو دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک انسان کیونکر خدا تعالیٰ کو اپنا بنا لیتا ہے۔ہر صدی کے سر پر وہ ایک مجدد آتا ہے۔جو ایک خاص جماعت قائم کرتا ہے۔میرا اعتقاد تو یہ ہے کہ ہر ۲۵۔۵۰ اور سو برس پر آتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا کو ثر ہوگا ؟ پھر سارے مذاہب میں دعا کو مانتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ جب بندہ اپنے مولیٰ سے کچھ مانگتا ہے۔تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے گو مانگنے کے مختلف طریق ہیں مگر مشترک طور پر یہ سب مانتے ہیں کہ جو مانگتا ہے وہ پاتا ہے۔اس اصل کو لیکر میں نے غور کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پہلو سے بھی کیا کچھ ملا ہے۔۱۳ سو برس سے برابر امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اللهُم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَی الِ مُحمد کہ کر دعائیں کر رہی ہے۔اور پھر اللہ اور اللہ کے فرشتے بھی اس درود شریف کے پڑھنے میں شریک ہیں اور ہر وقت یہ دعا ہو رہی ہے۔کیونکر دنیا پر کسی نہ کسی نماز کا وقت موجود رہتا ہے۔اور علاوہ نماز کے پڑھنے والے بھی بے انتہا ہیں۔اب سوچو کہ اس ۱۳ سو برس کے اندر کس قدر روحوں نے کس سوز اور تڑپ کے ساتھ اپنے محبوب و آقا کی کامیابیوں اور آپ کے لے اور ہمیں اس کے حافظ ہیں۔