حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 423
حقائق الفرقان ۴۲۳ سُورَةُ الْكَوْثَرِ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عظمت کے لحاظ سے اب اس لفظ کے معانی پر غور کرو کہ ہم نے بہت کچھ دیا ہے۔ خدا کا بہت کچھ وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا۔ اور پھر اس کا اندازہ میری کھو پری کرے یہ احمقانہ حرکت ہوگی اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اس وقت کوئی کوشش کرے کہ وہ پانی کے ان قطرات کو شمار کرنے لگے جو آسمان سے برس رہے ہیں ۔ ( جس وقت آپ یہ خطبہ پڑھ رہے تھے آسمان سے نزول بارانِ رحمت ہو رہا تھا۔ ایڈیٹر ) ہاں یہ بے شک انسانی طاقت کے اندر ہر گز نہیں ہے کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے اس کو سمجھ سکے چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور آپ کی عظمت کا علم بھی مجھے دیا گیا ہے۔ اس لئے میں اندازہ تو ان عطیات کا نہیں کر سکتا لیکن ان کو یوں سمجھ سکتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے کہ باپ انتقال کر گیا۔ اور چلنے ہی لگے تھے کہ ماں کا انتقال ہوا۔ کوئی حقیقی بھائی آپ کا تھا ہی نہیں۔ چنانچہ اسی کے متعلق فرمایا: أَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيما ( الضحى: ۷) ہم نے تجھے یتیم پایا تھا۔ اس یتیم کو جسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم نے بہت کچھ دے دیا۔ خاتم الانبیاء خاتم الرسل سارے علوم کا مالک، ساری سلطنتوں کا بادشاہ بنادیا۔ آپ کی عادت شریف تھی کہ کبھی جو بے انتہا روپیہ مالیہ کا آیا ہے تو مسجد ہی میں خرچ کر دیا۔ غرض غور کرو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے بہت کچھ دیا۔ کس قدر خیر کثیر آپ کو دی گئی ہے۔ آپ کا دامن نبوت دیکھو تو وہ قیامت تک وسیع ہے کہ اب کوئی نبی نیا ہو یا پرانا آہی نہیں سکتا۔ کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔ یہ کثرت تو بلحاظ زمان کے ہوئی ۔ اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) میں فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں یہ کوثر بلحاظ مکان کے عطا ہوئی۔ کوئی آدمی نہیں جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الہی میں اتباعِ رسالت پناہی کی ضرورت نہیں کوئی صوفی، کوئی بالغ مرد بالغہ عورت کوئی ہو۔ اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے ۔ اب