حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 422 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 422

حقائق الفرقان ۴۲۲ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ یہ سر ہے کہ جہاں میں کا لفظ ہوتا ہے وہاں کسی دوسرے کا تعلق ضروری نہیں ہوتا۔لیکن جہاں ہم ہوتا ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کے فرشتے اور مخلوق بھی اس کام میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔پس اس بات کو یاد رکھو۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ۔بے ریب ہم نے تجھ کو دیا ہے الکوثر ہرا یک چیز میں بہت کچھ۔یہاں اللہ تعالیٰ نے ہم کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا کام ہے جیسے اس میں آپ فضل کیا ہے۔فرشتوں اور مخلوق کو بھی لگایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ اس بہت کچھ کی کیا مقدار ہے؟ تم میں سے بہت سے لوگ شہروں کے رہنے والے ہیں جنہوں نے امیروں کو دیکھا ہے۔بہت سے دیہات کے رہنے والے ہیں۔جنہوں نے غریبوں کو دیکھا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے محض اپنے فضل سے ایسا موقع دیا ہے کہ میں نے غریبوں، امیروں کے علاوہ بادشاہوں کو بھی دیکھا ہے اور ان تینوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے، ان کی ہر چیز میں ، ہر بات میں علی قدر مراتب امتیاز ہوتا ہے۔مثلاً ایک کسی غریب کے گھر جا کر سوال کرے تو وہ اُس کو ایک روٹی کا ٹکڑا دیدیتا ہے۔اس کی طاقت اتنی ہی ہے۔لیکن جب ایک امیر کے گھر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس کو کچھ دید وتو اس کے کچھ سے مراد تین چار روٹیاں ہوتی ہیں۔اور میں نے دیکھا ہے کہ جب بادشاہ کہتا ہے کہ کچھ دے دو تو اس کے کچھ سے مراد دس بیس ہزار روپیہ ہوتا ہے۔اس سے عجیب بات پیدا ہوتی ہے۔جس قدر کسی کا حوصلہ ہوتا ہے اسی کے موافق اس کی عطا ہوتی ہے۔اب اس پر قیاس کر لو۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے بہت کچھ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کی کبریائی، اس کی عظمت و جبروت پر نگاہ کرو، اور پھر اس کے عطیہ کا تصور۔دیکھو ایک چھوٹی سی شمع سورج اس نے بنایا ہے، اس کی روشنی کیسی عالمگیر ہے، ایک چھوٹی سی راشین چاند ہے اس کی روشنی کو دیکھو، کس قدر ہے، کنوؤں سے پانی نکالنے میں کس قدر جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کی عطا پر دیکھو کہ جب وہ بارش برساتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے۔غرض یہ سیدھی سادھی بات ہے اور ایک مضبوط اصل ہے جس قدر کسی کا حوصلہ ہو۔اسی قدر وہ دیتا