حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 33
حقائق الفرقان ۳۳ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ حدیث شریف میں ہے کہ اِنَّ فِي اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهُ تَعَالَى خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ كُلُّ لَيْلَةٍ - يعنی رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اگر مسلمان بندہ اس کے موافق پڑ جاتا ہے۔تو خدائے تعالیٰ سے دینی و دنیاوی بھلائی مانگتا ہے۔دیا جاتا ہے۔اور وہ ساعت کسی رات کے لئے خاص نہیں ہے۔بلکہ ہر رات میں ہوا کرتی ہے۔ع ہر شب شب قدر است اگر قدر بدانی اقومُ قِيلًا - قول بمعنے فعل زبانِ عرب میں کثرت سے آتا ہے۔معنی یہ ہوئے کہ دینی و دنیوی سب کام تہجد گزار عابد انسان کے درست ہو جاتے ہیں۔چونکہ اقوم مبالغہ کا صیغہ ہے۔اس لئے بڑے بڑے مشکلات اس ذریعہ سے دور ہو جاتے ہیں۔بارِ نبوت کے تقل اٹھانے کے لئے قیام کیل کو اسی لئے پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فرض کیا۔امت کو بھی اس میں بہت بڑی تعلیم ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے اَشَدُّ الْبَلَاءِ انْبِيَاءَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ عموماً الہامی کتب اور احوال انبیاء و اولیاء سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ رات کے وقت کو انتشار روحانیت اور جذب برکات یزدانی کے ساتھ خاص تعلق ہے۔جس کی وجہ غالباً وہ تنہائی اور سکونِ قلب ہے۔جو رات کی خاموشی اور علیحدگی سے حاصل ہوسکتا ہے۔لے سبح۔کے اصلی معنے چلنے پھرنے اور گردش کرنے کے ہیں۔اسی واسطے پیراک کو سابح کہتے ہیں کہ وہ پیرتے وقت ہاتھ پیر مارا کرتا ہے۔اور یہاں سبع سے تصرف في الحوائج یعنی اشغال ادبار اقبال اور آمدورفت مراد ہے۔نمازوں کا پڑھنا ، مریضوں کی عیادت کرنا ، جنازوں کی متابعت کرنا ، فقراء ومہاجرین کی اعانت، طالب علموں کی تعلیم، مستفتیوں کو فتوی دینا ، صلح کرانا ، کافروں کا مقابلہ، اپنے ذاتی حوائج پورے کرنے، بیبیوں کی ضروریات کو مد نظر رکھنا۔یہ سب امور آپ کے لئے سَبْعًا طويلًا تھے۔رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وکیلا۔رات ساری تو قیام کنیل میں گزری اور دن سارا سَبْحًا طَوِیلا۔نبوت کے فرائض کی ادائیگی میں ختم ہو۔اب بالطبع خیال پیدا ہوسکتا ہے ا سب سے زیادہ انبیاء آزمائش میں مبتلاء کیے جاتے ہیں پھر ان کے مثل اور پھر ان کے مثل درجہ بدرجہ۔وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے کوئی عبادت کے لائق نہیں مگر وہی۔پس اسے ہی بطور کارساز پکڑ۔