حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 418
حقائق الفرقان ۴۱۸ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ اسی کی اولاد میں پیدا کیا۔ وہ زمانہ ملا جس کی انتہا نہیں۔ خلفاء ہوں تو وہ بھی ملت ابرا ہیمی میں ۔ سارے نواب اور خلفاء البہی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہوئے ہیں اور ہونے والے ہیں۔ پھر جب شکریہ میں نماز میں خدا کی عظمت اور کبریائی بیان کی تو مخلوق الہی کے لئے بھی کیونکہ ایمان کے اجزاء تو دو ہی ہیں۔ تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ ۔ ہاں مخلوق کے لئے یہ کہ وَانْحَرُ : جیسے نماز میں لگے ہو۔ قربانیاں بھی دو تا کہ مخلوق سے سلوک ہو۔ قربانیاں وہ دو جو بیمار نہ ہوں ، دہلی نہ ہوں، بے آنکھ کی نہ ہوں، کان چرے ہوئے نہ ہوں، عیب دار نہ ہوں، لنگڑی نہ ہوں اس میں اشارہ یہ ہے کہ جب تک کامل قومی کو خدا کے لئے قربان نہ کرو گے۔ ساری نیکیاں تمہاری ذات پر جلوہ گر نہ ہوں گی ۔ پس جہاں ایک طرف عظمتِ الہی میں لگو ۔ دوسری طرف قربانیاں کر کے مخلوق الہی سے شفقت کرو اور قربانیاں کرتے ہوئے اپنے کل قومی کو قربان کر ڈالو اور رضاء الہی میں لگا دو۔ پھر نتیجہ کیا ہوگا ؟ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَر ۔ تیرے دشمن ابتر ہوں گے۔ انسان کی خوشحالی اس سے بڑھکر اور کیا ہوگی کہ اس کو اب تو راحتیں ملیں۔ اور اس کے دشمن ہلاک ہوں۔ یہ باتیں بڑی آسانی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ خدا کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت۔ نمازوں میں خصوصیت دکھاؤ۔ کانوں پر ہاتھ لے جا کر الله اكبر زبان سے کہتے ہو مگر تمہارے کام دکھا دیں کہ واقعی دنیا سے سروکار نہیں ۔ تمہاری نماز وہ نماز ہو جو تنهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ - (العنكبوت: ير العنكبوت: (۴۶) ہو تمہارے اخلاق تمہارے معاملات عامیوں کی طرح نہ ہوں بلکہ ایک پاک نمونہ ہوں ۔ پھر دیکھو۔ کوثر کا نمونہ ملتا ہے یا نہیں۔ لیکن ایک طرف سے تمہارا فعل ہے دوسری طرف سے خدا کا انعام ۔ درود کے رود پڑھو۔ آج کل کے دن عبادت کے لئے مخصوص ہیں۔ وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (البقرۃ : ۲۰۴) کل وہ دن تھا کہ کل حاجی ہر طبقہ اور ہر عمر کے لوگ ہوں گے۔ دنیا سے لے روکتی ہے کھلی بے حیائی اور کار بد سے ( یہود اور نصاری بننے سے ) ۲ عید الاضحی ۲۱ را پریل ۱۸۹۹ء۔ (مرتب) اور اللہ کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں ( حج کے ) ۔