حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 417
حقائق الفرقان ۴۱۷ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ کوثر میں ہر ایک شخص شریک ہوسکتا ہے مگر شرط یہ ہے۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ : اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو۔دیکھو۔اس آدم کامل کا پاک نام ابراہیم بھی تھا۔جس کی تعریف اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔وَ ابْراهِيمَ الَّذِى وَفَّى ( النجم : ۳۸) اور وہی ابراہیم جو جَاءَ رَبَّهُ بِقَلبِ سلیم - الصفت : ۸۵) کا مصداق تھا۔سچی تعظیم البی کر کے دکھائی۔جیسے مولیٰ کریم فرماتا ہے۔وَ إِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِم رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَانتَهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا - (البقره: ۱۲۵) پھر کیا نتیجہ پایا۔الہی تعظیم جس قدر کوئی انسان کر کے دکھاتا ہے۔اسی قدر ثمرات عظیمہ حاصل کرتا ہے۔مثلاً حضرت ابوالملت ابراہیم کو دیکھو، اس کی دعاؤں کا نمونہ ، دیکھو ہمارے سید و مولیٰ اصفی الاصفیاء خاتم الانبیاء ان دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔اللّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَعَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولا د صالح عنایت کی۔اسمعیل جیسی اولاد دی۔جب جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دیدو۔ابراہیم کی قربانی دیکھو بڑھاپے کا زمانہ دیکھو مگر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں ، ساری امیدیں ، تمام ارادے یوں قربان کر دیئے کہ ایک طرف حکم ہوا اور معابیٹے کے قربان کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔پھر بیٹا بھی ایسا بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔بیٹا ائی آزى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ (الصفت: ١٠٣) تووه خدا کی راہ میں جان دینے کو تیار ہو گیا۔غرض باپ بیٹے نے ایسی فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزت کوئی آرام کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی کیسی جزا دی۔اولاد میں ہزاروں ہزار بادشاہ اور انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء بھی لے اور ابراہیم کی کتابوں میں جس نے عہد پورا کیا۔۲۔وہ صحیح سلامت دل کے ساتھ اپنے رب کے پاس آیا۔سے اور جب کہ ابراہیم کو چند باتوں کے بدلہ میں اُس کے رب نے کچھ انعام دینا چاہا اور ابراہیم نے اچھی طرح ان باتوں کو پورا کیا تو ہم نے کہا کہ ہم ضرور تجھ کو ہمیشہ کے لئے لوگوں کا پیشوا بنا ئیں گے۔۴۔میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تجھ کو ذبح کر رہا ہوں۔