حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 416

حقائق الفرقان ۴۱۶ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ ترقی مدارج میں وہ کوثر ! کہ جبکہ یہ سچی بات ہے الدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِہ پھر دنیا بھر کے نیک اعمال پر نگاہ کرو جبکہ ان کے دال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کے جزائے نیک آپ کے اعمال میں شامل ہو کر کیسی ترقی مدارج کا موجب ہورہی ہے۔اعمال میں دیکھو! اتباع، فتوحات، عادات، علوم، اخلاق میں کس کس قسم کی کوثریں عطا فرمائی ہیں۔استحکام وحفاظت مذہب کے لئے دیکھو۔جس قدر مذاہب دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے۔اس کی حفاظت کا ذمہ دار خود ان لوگوں کو بنایا۔مگر قرآن کریم کی پاک تعلیم کے لئے فرمایا۔انالۂ لَحَافِظُونَ (الحجر : ۱۰) یہ کیا کوثر ہے! اللہ تعالیٰ اس دین کی حمایت و حفاظت اور نصرت کے لئے تائید میں فرماتا اور مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے جو اپنے کمالات اور تعلقات الہیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ان کو دیکھ کر پتہ لگ سکتا ہے کہ کیونکر بندہ خدا کو اپنا بنالیتا ہے۔اس ہستی کو دیکھو۔انسان اور اس کی حرکات کو دیکھو جب خدا بنانے پر آتا ہے۔تو اسی عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے اور ایک اُجڑی بستی کو اس سے آباد کرتا ہے۔کیا تعجب انگیز نظارہ ہے۔بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکثر باز مدبروں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع ہوتے ہیں۔مثلاً دیکھو! کسی بستی کو برگزیدہ کیا۔جہاں نہ ترقی کے اسباب نہ معلومات کی توسیع کے وسائل، نہ علمی چرچے نہ مذہبی تذکرے، نہ کوئی دار العلوم، نہ کتب خانہ ! صرف خدائی ہاتھ ہے جس نے تربیت کی اور اپنی تربیت کا عظیم الشان نشان دکھایا۔غور کرو۔کس طرح یہ بتلاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے کیا کوثر عطا فرمایا۔لیکن غافل انسان نہیں سوچتا۔افسوس تو یہ ہے کہ جیسے اور لوگوں نے غفلت اور ستی کی۔ویسے ہی غفلت کا شکار مسلمان بھی ہوئے۔آہ۔اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے اور خود بھی اُن سے حصہ لینے کے آرزو مند ہوتے تو اللہ تعالیٰ اُن کو بھی کوثر دیتا میں نے جو کچھ اب تک بیان کیا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی کوثر کا ذکر تھا۔پھر مرنے کے بعد ایک اور کوثر برزخ میں حشر میں صراط پر بہشت میں ،غرض کو ثر ہی کو ثر دیکھے گا۔اس لے نیکی کی طرف بلانے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔۲؎ اور ہمیں اس کے حافظ ہیں۔