حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 412 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 412

حقائق الفرقان ۴۱۲ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ قَالَ اللهُ تَعَالَى أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ تَمَّتْ بِحَمْدِ اللهِ وَ حَوْلِهِ وَ قُوَّتِهِ وَ مَنْعِهِ وَاِحْسَانِهِ وَ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ عربی تفسیر سے ترجمہ: تحقیق دشمن تیرا وہی ابتر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑی دشمنی ہی تھی جو آپ کی وعظ توحید کی تردید کی گئی اور آپ کی رسالت جو تعظیم الہی اور شفقت علی خلق اللہ کے لئے تھی اس کا انکار کیا گیا۔اور آپ پر جو کتاب ہدایت کے لئے نازل ہوئی اس کو رڈ کیا گیا بلکہ آپ کو کہا گیا کہ یہ صرف کہانیاں ہیں جو تم پیش کرتے ہو حالانکہ وہ تمام بیانات اس کے لئے بشارت اور انذار تھے۔اور بعض نے کہا کہ یہ الہام الہبی نہیں بلکہ صرف ایک انسان کا قول ہے۔کسی نے کہا کہ یہ ایک شاعر ہے جو شعر گوئی کرتا ہے اور کسی نے کہا کہ یہ ایک کا ہن ہے جو کہانت کا کام کرتا ہے۔اور کوئی بولا کسی انسان نے اس کو تعلیم کی ہے۔پس یہ ایک سیلاب تھا جو بہت بڑھ گیا تھا اور اس سے وادی مکہ بھر گئی تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں میں سے جو کوئی تکبر کے ساتھ بڑھا۔اس نے اپنی بدبختی کا حصہ لیا۔اور اس کا بدلہ پایا۔خواہ وہ مکی تھا یامدنی تھا۔خواہ ان پڑھ تھا اور خواہ اہلِ کتاب میں تھا۔خواہ عوام میں سے ہوا۔خواہ شرفاء میں سے ہوا۔سب نے اپنا بدلہ کافی پایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے اور آپ کے ساتھ عداوت کرنے والوں میں سے ہر ایک نے اپنی قدر کے مطابق اور اپنی عداوت کے درجہ کے موافق اپنا کیا اور بو یا اٹھایا اور ابتر ہوا۔سردارانِ قریش کی طرف دیکھو اور عمائد مکہ کی طرف نظر کرو۔اور اس وادی کے سرداروں کی طرف نگاہ کرو اور شہر کے ارکان کا حال دیکھو۔جن کو لوگ اپنی سرداری کا تاج دیتے تھے۔اور انہوں نے تدابیر کیں اور کہا کہ اس شہر کے شرفاء ذلیل لوگوں کو یہاں سے نکال دیں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے تمام خیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کر دی اور دشمن محروم رہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم فتح چاہتے ہو تو اب فتح تمہارے لئے آ گئی ہے۔اور ان کے اموال کے متعلق فرمایا کہ قریب ہے کہ وہ اپنے مال خرچ کریں گے۔پھر وہ خرچ بھی ان کے لئے