حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 406
حقائق الفرقان ۴۰۶ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ قرآن شریف میں ہے۔اور اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے شر سے بچائے گا۔اور خیر کثیر میں وہ عزت کا وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور اس کی امت کے مومنوں کو عطا کیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے اور خیر کثیر میں وہ عطاء الہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی کہ خدا نے آنحضرت کو یتیم پایا اور آپ کی پرورش کی اور آپ کو سائل پایا تو آپ کو ہدایت دی اور آپ کو فقیر پا یا اور غنی کر دیا۔کفار نے آپ کو کہا تھا کہ آہم تجھے مال دیں گے۔اور تو سب لوگوں سے غنی ہو جائے گا۔اور تجھے سب سے زیادہ شریف عورت نکاح میں دیں گے اور تجھے اپنا کیس بنا ئیں گے۔آپ نے کفار کی بات کا انکار کیا تو خدا نے کیا کچھ دیا۔کیا کفار عرب کے اختیار و قدرت میں تھا کہ تمام عرب آپ کے ماتحت کر دیتے اور عجم آپ کے خدام کے زیر حکومت ہو جا تا۔ہر گز نہیں۔قسم بخدا ہرگز نہیں۔پھر خیر کثیر میں وہ عطا الہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب شریف کو اپنے ذکر کے ساتھ جاری کیا اور اپنی محبت کے ساتھ پر کر دیا۔یہ وہ عظیم الشان نعمت ہے کہ اس کی قدر اور عظمت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔سوائے اس کے جس کو خدا تعالیٰ توفیق عطا کرے۔یہ وہ نعمت ہے کہ اس کے مشابہ کوئی نعمت دنیا اور آخرت میں نہیں ہے۔پھر اور خیر کثیر میں یہ بات ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خاص نصرت اور ہدایت عطا فرمائی اور نماز میں آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی۔اور اس سے آپ کے سینے کو انشراح عطا فر مایا۔پھر خیر کثیر میں سے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسیلہ عطا فرمایا اور مقام محمود عطا کیا اور آپ کو پہلا آدمی بنایا جو جنت کا دروازہ کھولے گا اور حمد کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حوض عطا فر ما یا اور نہر عطا کی۔اور خیر کثیر میں یہ بات شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مومنوں کو آپ کی اولاد بنایا اور پھر خیر کثیر میں آپ پر وہ عطا الہی ہے کہ آپ کی امت کے اعمال خیر